کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 281
آپ مجاہدین کے علاوہ دیگر اہم مسلم شخصیات کے حصولِ رزق کی کوشش سے گریز اور تجارت سے دوری کو خوف اور گھبراہٹ کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ [1] ۴: سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کی پہرے داری اور راتوں کا گشت: بلاشبہ راتوں کے گشت اور پہرے داری ہی سے پولیس کا وجود عمل میں آیا۔ بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ خلافت صدیقی میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رات میں گشت کرنے اور پہرے داری کے امیر تھے اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بذات خود یہ ذمہ داری سنبھالی۔ آپ اپنے ساتھ اپنے غلام اسلم کو اور کبھی کبھی عبدالرحمن بن عوف کو لے لیتے تھے۔ پہرے داری کا مطلب ومقصد یہ ہے کہ رات میں گشت لگا کر چوروں، لٹیروں اور فسادیوں پر قابو پایا جاسکے۔ درحقیقت فاروقی گشت تاریخی حیثیت سے محکمہ پولیس کے منظم کرنے کا پہلا مرحلہ قرار دیا جاسکتا ہے، کیونکہ شروع شروع میں سارے مسلمان دن میں اپنی حفاظت خود کرتے اور برائیوں کو روکتے تھے اور جب رات کو سو جاتے تو ان کی حفاظت کے لیے پہرے دار شب بیداری کرتے، لیکن جب فسادیوں کی کثرت ہوگئی اور انہوں نے دن کی روشنی میں کھلے عام برائیاں شروع کردیں تو اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ دن میں بھی ان پر نگاہ رکھی جائے، چنانچہ اس طرح پولیس کا وجود عمل میں آیا، گویا کہ میری تعبیر صحیح ہے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ پولیس ہمہ وقت کی پہرے دار ومحافظ ہے۔ [2] عمر فاروق رضی اللہ عنہ بذات خود مسلمانوں کی نگرانی اور پہرے داری کرتے تھے اور آپ کا یہ عمل اسلامی معاشرہ کی حقیقی صورت حال سے واقفیت اور اس پر خصوصی توجہ دینے میں کافی معاون ثابت ہوتا تھا۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے تھے تاکہ بذات خود ان چیزوں کو دیکھ اور سن سکیں جنھیں بعض عمال آپ تک پہنچانے میں تردد محسوس کرتے ہیں یا حقیقی صورت حال آپ کے سامنے پیش نہ کرپاتے۔ (واضح رہے کہ مدینہ ہی اس وقت اسلامی حکومت کا دارالخلافہ تھا) چنانچہ آپ نے اس گشت اور پہرہ داری کے نتیجے میں کتنے ہی ایسے قواعد جنہیں وضع کرنے پر حالات نے مجبور کیا اور سابقہ نظام میں ایسی بہت ساری تبدیلیاں کیں اور قرار دادوں کو کالعدم قرار دیا جن کو تبدیل کرنے یا کالعدم قرار دینے کی مجبوری تھی۔ میں اس بات کی تائید میں آپ تک چند دلائل واقعات کی شکل میں پیش کررہا ہوں۔ [3] شیر خوار بچوں کو جلدی دودھ چھڑانے کی ممانعت: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے غلام اسلم سے روایت ہے کہ مدینہ سے باہر تاجروں کا ایک قافلہ آیا اور انہوں نے [1] نظام الحکومۃ النبویۃ: ۲/ ۲۰ [2] فرائد الکلام، ص: ۱۲۹۔ تنبیہ الغافلین، السمرقندی، ص: ۲۱۱ [3] نظام الحکومۃ النبویۃ: ۲/ ۲۰ [4] نظام الحکومۃ النبویۃ: ۲/ ۲۰ [5] نظام الحکومۃ الإسلامیۃ: ۲/ ۱۸