کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 276
فرمایا: ہرگز نہیں، اسے اسی وقت چاندی دے دو، یا اس کا سونا واپس کردو، اس لیے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: (( اَلْوَرِقُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا ہَائَ وَہَائَ ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ ہَائَ وَہَائَ ، وَالشَّعِیْرِ رِبًا إِلَّا ہَائَ وَہَائَ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا ہَائَ وَہَائَ۔)) [1] ’’چاندی چاندی کے بدلے بیچنا سود ہے، اِلا یہ کہ ہاتھوں ہاتھ ہو اور گیہوں گیہوں کے بدلے بیچنا سود ہے اِلا یہ کہ ہاتھوں ہاتھ ہو اور جو جو کے بدلے بیچنا سود ہے اِلا یہ کہ ہاتھوں ہاتھ ہو، اور کھجور کھجور کے بدلے بیچنا سود ہے اِلا یہ کہ ہاتھوں ہاتھ ہو۔‘‘ [2] ایک مرتبہ آپ نے ایک آدمی کو دودھ میں پانی ملا کر بیچتے ہوئے دیکھا تو اسے انڈیل دیا۔ [3] آپ مسلمانوں کو بازار میں احتکار [4] (ذخیرہ اندوزی) سے منع کرتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ نے حاطب بن ابی بلتعہ سے پوچھا: اے حاطب تم کیسے بیچتے ہو؟ انہوں نے کہا: (ایک درہم میں) دو مد۔ تو آپ نے فرمایا: ہمارے ہی دروازوں، گھروں اور بازاروں میں خریدتے ہو، ہمارے ہی بیچ میں رہتے ہو اور جیسے چاہتے ہو بیچتے ہو۔ (اتنے میں) ایک صاع دیا کرو، ایک صاع چار مد کا ہوتا ہے، ورنہ ہمارے بازار میں مت بیچو، یہاں سے باہر جاؤ اور خرید کر لاؤ، پھر جس طرح چاہو فروخت کرو۔ [5] ایک مرتبہ آپ بازار گئے اور دیکھا کہ کچھ لوگ اپنے زائد اموال کے ذریعہ سے ذخیرہ اندوزی کررہے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ایسا نہیں ہوسکتا، یہ تمہارے لیے خاص نعمت نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے ہمارے پاس روزی بھیجی، یہاں تک کہ جب وہ مال ہمارے بازار میں پہنچا ہے تو آپ لوگوں نے بڑھ کر اسے خرید لیا اور بیواؤں اور مسکینوں کو نظر انداز کرکے اس کی ذخیرہ اندوزی کرلی، یہاں تک کہ جب باہر کے تاجر مال بیچ کر چلے گئے تو اب آپ لوگوں نے جس طرح چاہا قیمت لگا کر فروخت کیا۔ لیکن اب جو تاجر باہر سے سردی یا گرمی کے موسم میں ہمارے بازار میں مال لے کر آتا ہے تو صرف وہی عمر کا مہمان ہے اور صرف اسی کو حق ہے کہ جس طرح چاہے فروخت کرے، اور جتنا چاہے روکے رکھے۔ (یہیں سے خرید کر ذخیرہ کرنا اور پھر اسے مہنگا کرکے بیچنے کی اجازت نہ ہوگی۔) [6] [1] تفسیر قرطبی: ۱۶/ ۳۳۶۔ محض الصواب: ۲/ ۶۷۷ [2] الزہد، وکیع: ۲/ ۵۱۷۔ یہ روایت سنداً صحیح ہے۔ [3] السلطۃ التنفیذیۃ: ۱/ ۴۰۸ [4] الرقابۃ المالیۃ فی الإسلام، د/ عوف الکفراوی، ص: ۶۶ [5] الطبقات الکبرٰی: ۳/ ۳۳۰ [6] تاریخ الإسلام، عہد الخلفاء الراشدین، ص: ۲۶۸