کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 275
کرلو اس لیے کہ یہ شفا ہے اور خود کو لوگوں پر تذکرہ وتبصرہ سے بچاؤ اس لیے کہ یہ بیماری ہے۔ [1] آپ کہا کرتے تھے: تنہائی پسند بنو۔ [2] ۳: تجارت اور بازاروں کا اہتمام : عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس بات کے حریص رہے کہ بازار میں لین دین کرنے والوں کے حالات سے باخبر رہیں، انہیں اسلامی شریعت کے مطابق لین دین کرنے پر ابھاریں۔ آپ اپنے علاوہ کسی کو بازار کی نگرانی پرمامور کردیتے تھے: مثلاً آپ نے سائب بن یزید اور عبداللہ بن عتبہ بن مسعود وغیرہ کو مدینہ کے بازار کی نگرانی پر مامور کیا تھا۔ [3] ایک محقق یہ ملاحظہ کرسکتا ہے کہ اسلامی حکومت میں احتساب کا نظام اسلامی شریعت کے مطابق وجود میں آیا اور اسلامی معاشرہ کی دیگر ترقیات کے ساتھ ساتھ اس میں بھی ترقی ہوئی۔ یہاں تک کہ ایک ایسی سلطنت وجود میں آئی جس کے حاکم میں چند اسلامی شرائط کا پایا جانا ضروری قرار پایا، نیز کس کس کا محاسبہ کیا جائے اور کن کن چیزوں میں محاسبہ کیا جائے؟ اس کے لیے کچھ شرائط ضروری قرار دی گئیں۔ [4] عمر فاروق رضی اللہ عنہ بازاری معاملات کا محاسبہ کرنے میں بھی بہت سخت واقع ہوئے تھے۔ آپ ہاتھ میں درّہ لیے ہوئے بازار میں گھومتے تھے اور جسے اس کا مستحق سمجھتے اس کی اس سے سرزنش کرتے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کے جسم پر جو تہ بند دیکھا اس میں چودہ پیوند لگے تھے، کچھ پیوند چمڑے کے تھے۔ آپ کے جسم پر نہ تو قمیض تھی اور نہ چادر، سر پر پگڑی ہوتی اور ہاتھ میں درّہ اور اسی طرح مدینہ طیبہ کے بازار میں گھومتے۔ [5] حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے قتادہ رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ وقت ہوئے تو پیوند لگا ہوا اونی کھردرا جبہ پہنتے، بعض پیوند چمڑے کے ہوتے اور اسی حالت میں بازار کا چکر لگاتے اور آپ کے کندھے پر درّہ ہوتا جس سے قصور واروں کو سزا دیتے۔ [6] بازاری معاملات کے احتساب کے باب میں مالک بن اوس بن حدثان کا وہ واقعہ قابل ذکر ہے جسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ مالک بن اوس کا بیان ہے کہ میں بازار میں یہ کہتے ہوئے آگے بڑھا کہ کون دراہم کو بدلے گا؟ طلحہ بن عبید اللہ جو عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، انہوں نے کہا: ہمیں اپنا سونا دے دو اور پھر آنا جب ہمارے خادم آجائیں گے تو ہم تمہیں بدلے والی تمہاری چاندی دے دیں گے۔ یہ سن کر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے [1] فرائد الکلام، ص: ۱۷۳ [2] الفتاوٰی: ۲۶/ ۱۴۶، ۱۴۷ [3] الفتاوٰی: ۳۱/ ۱۴ [4] الموطأ : ۱/ ۳۰۳۔ بحوالہ الخلافۃ الراشدۃ، ص: ۳۳۰ [5] فتح الباری: ۴/ ۲۶۱ [6] محض الصواب: ۲/ ۶۳۷