کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 273
فَتَعْجِزُوْا عَنْہَا۔)) ’’یعنی حمد وصلاۃ کے بعد! تم لوگوں کی موجودگی مجھ پر پوشیدہ نہ تھی، لیکن میں ڈر گیا کہ کہیں وہ نماز تم پر فرض نہ کردی جائے، اور تم اسے نہ کرسکو۔‘‘ چناں چہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی اور معاملہ اسی پر باقی رہا۔ [1] یاد رہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ ’’یہ کتنی بہترین بدعت ہے‘‘ سو آپ نے یہاں بدعت کا لغوی معنی مراد لیا ہے، اس لیے کہ ہر وہ کام جس کی کوئی سابق نظیر نہ ملتی ہو اسے لغت میں بدعت کہا جاتا ہے۔ [2] خلاصہ یہ کہ عمر رضی اللہ عنہ کا تراویح کی نماز کے لیے لوگوں کو ایک امام پر جمع کرنا اور تمام ریاستوں میں اس کا عمومی فرمان بھیج دینا اس بات کی دلیل ہے کہ منظم انداز میں کام کرنا آپ کو پسند تھا۔ زکوٰۃ،حج اور رمضان: عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے زکوٰۃ پر بھی خصوصی توجہ دی اور اس کے طریقہ کو منظم کیا اور یہ فریضہ ملک کی آمدنی کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ بن گیا۔ اس فریضہ کے متعلق ہم ان شاء اللہ تفصیلی بحث ’’مالیاتی ادارہ‘‘ کے عنوان سے اگلے صفحات میں بیان کریں گے۔ البتہ یہاں حج کے متعلق کچھ باتیں قابل ذکر ہیں۔ آپ اپنی پوری مدت خلافت میں لوگوں کو حج کراتے رہے۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ آپ نے دس حج کیے، یعنی پوری مدت خلافت میں اور بعض نے کہا کہ نو سال تک حج کیا۔ [3] خلیفہ یا ان کے قائم مقام عمال کی ذمہ داریوں میں یہ چند اُمور شامل ہیں: ٭ لوگوں کو حج کے اوقات کی اطلاع دینا اور مقامات مقدسہ تک لے جانا۔ ٭ شریعت کے مطابق حج کی ادائیگی کرنا۔ ٭ حج کے مقامات مقدسہ میں ٹھہر کر ان کے عزت و احترام کا مظاہرہ کرنا۔ ٭ مشروع ارکان حج میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنا۔ ٭ نمازوں میں امامت کرنا اور مشروع خطبے دینا۔ [4] آپ لوگوں کو حج کی رغبت دلاتے اور انہیں اس کا حکم دیتے، حتیٰ کہ آپ نے کہا: میں نے ارادہ کیا کہ کچھ لوگوں کو شہروں میں اس لیے بھیجوں تاکہ وہ دیکھیں کہ جس کے پاس حج کرنے کی وسعت ہے اور اس نے [1] صحیح البخاری، حدیث نمبر: ۲۰۱۰ [2] محض الصواب: ۱/ ۳۴۹ [3] صحیح البخاری، حدیث نمبر: ۲۰۰۹