کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 271
(( اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ لَا أَحْمِلُ ہَمَّ اْلِإجَابَۃِ، وَإِنَّمَا أَحْمِلُ ہَمَّ الدُّعَائِ، فَإِذَا أَلْہَمْتَ الدُّعَائَ فَإِنَّ الْإِجَابَۃَ مَعَہُ ۔)) [1] ’’اے اللہ میں قبولیت کا غم نہیں برداشت کرسکتا، ہاں دعا کا غم برداشت کرسکتا ہوں، لہٰذا جب تو دعا کی توفیق دے تو ساتھ میں قبولیت سے بھی نواز دے۔‘‘ آپ لوگوں کو نیکوں اور شریفوں کی صحبت کی ترغیب دیتے تھے اور فرماتے: نیکوں اور شریفوں کی صحبت اختیار کرو، وہ جو کہتے ہیں اسے سنو، اس لیے کہ وہ صداقت پر مبنی باتیں کیا کرتے ہیں۔ [2] سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ تذکیر الٰہی اورنصیحت کو بہت پسند کرتے تھے۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے کہتے تھے: اے ابوموسیٰ! ہمیں ہمارے ربّ کے بارے میں نصیحت کیجیے تو وہ قرآن پڑھتے اور عمر رضی اللہ عنہ اور آپ کے رفقاء اسے سنتے اور قرآن سن کر روتے۔ [3] ذکر واذکار والوں کے ساتھ بیٹھنا بھی آپ کو بہت محبوب تھا۔ ابوسعید جو ابواسید کے غلام تھے، کا بیان ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ عشاء کی نماز کے بعد رات میں ایک مرتبہ مسجد کا جائزہ لیتے، اگر کوئی شخص اس وقت مسجد میں مل جاتا تو اسے باہر جانے کا کہتے ، اِلا یہ کہ کوئی آدمی نماز پڑھ رہا ہو (تو اسے کچھ نہ کہتے)۔ ایک مرتبہ صحابہ کی مجلس سے گزرے اس میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بھی تھے، آپ نے ان کے بارے میں پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ جواب ملا: امیر المومنین! آپ کے گھرانے ہی کے لوگ ہیں۔ آپ نے پوچھا: نماز کے بعد آپ لوگ یہاں کیوں رک گئے؟ انہوں نے بتایا کہ ہم بیٹھ کر اللہ کے ذکر میں لگے ہیں۔ آپ بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔ پھر آپ نے اپنے قریب بیٹھے ہوئے آدمی سے کہا: دعا شروع کرو، اس نے دعا شروع کی، پھر آپ نے ایک ایک کرکے سب سے دعا کرائی یہاں تک کہ میرے پاس پہنچے، میں آپ کے پہلو میں تھا، آپ نے کہا: تم بھی دعا کرو، میں مشکل میں پڑ گیا اور میرے بازو کانپنے لگے۔ آپ نے کہا: کچھ کہو، خواہ یہی کہو کہ اے اللہ ہمیں بخش دے، اے اللہ ہم پر رحم فرما، پھر آپ نے خود دعا شروع کی، تو دیکھا گیا کہ پوری مجلس میں آپ سے زیادہ آنسو بہانے والا اور گریہ وزاری کرنے والا کوئی نظر نہ آیا اور آخر میں کہا: اب اٹھو اور جاؤ۔ [4] تراو یح: جس شخص نے سب سے پہلے لوگوں کو نماز تراویح کے لیے اکٹھا کیا وہ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ نے تمام شہروں میں یہی فرمان جاری کیا، اس کا سبب یہ تھا کہ رمضان کی راتوں میں سے ایک رات آپ مسجد میں گئے تو دیکھا کہ [1] الفاروق عمر، الشرقاوی، ص: ۲۱۴ [2] صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۷۴۷ [3] الشیخان، بروایت بلاذری، ص: ۲۲۵ [4] الفتاوٰی: ۱/ ۲۳۲ [5] الفتاوٰی: ۱۴/ ۲۷۵