کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 255
دینا اس لیے کہ اگر ان دونوں کے مویشی ہلاک ہوگئے تو وہ دونوں کھیتی اور باغات میں لگ جائیں گے۔ اور اگر عام لوگوں کے مویشی ہلاک ہوگئے تو وہ اپنے بال بچوں کو لے کر ہمارے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اے امیر المومنین کیا میں ان کو چھوڑ کر بھاگ جاؤں۔ لہٰذا ان کے لیے پانی اور گھاس کا مہیا کرنا، درہم ودینار مہیا کرنے کے مقابلے میں آسان ہے۔ اللہ کی قسم ! وہ سوچتے ہیں کہ میں نے ان پر ظلم کیا ہے، حالانکہ چراگاہیں انہی کے شہروں کی ہیں، جاہلیت کی زندگی میں انہوں نے اس کے لیے لڑائی کی ہے، اور جب اسلام قبول کیا تو یہ انہیں کے پاس تھیں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر فی سبیل اللہ کے جانوروں کی حفاظت کی ذمہ داری نہ ہوتی تو ان کے شہروں کی ایک بالشت برابر زمین بھی حکومتی چراگاہ کے لیے خاص نہ کرتا۔ [1] موسیٰ بن انس بن مالک سے روایت ہے کہ سیرین، یعنی محمد بن سیرین کے باپ نے انس رضی اللہ عنہ سے مکاتبت[2] کی درخواست کی، لیکن انہوں نے انکار کردیا، ان کے پاس کافی دولت تھی، سیرین رحمہ اللہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، اور کہا: میں نے مکاتبت کا مطالبہ کیا، لیکن انس نے انکار کردیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دُرّے کی ضرب لگائی، اور اس آیت کی تلاوت کرنے لگے: {فَکَاتِبُوْہُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْہِمْ خَیْرًا} (النور:۳۳) ’’تو تم آزادی کی تحریر انہیں دیا کرو اگر تم کو ان میں کوئی بھلائی نظر آتی ہو۔‘‘ پھر انس رضی اللہ عنہ نے سیرین سے مکاتبت کرلی۔ [3] آخر الذکر واقعہ میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایک غلام اپنی آزادی کا مطالبہ کررہا ہے اور اس کا آقا انکار کررہا ہے اور حاکم وقت انصاف کرتے ہوئے غلام کی رائے کو نافذ کراتا ہے اور آقا کی بات کو چھوڑ دیتا ہے۔ ذرا سوچو! کہ تاریخ کے طول وعرض میں کیا ایسی کوئی مثال ملتی ہے۔ [4] ۴۔ معاشرہ کی بعض عظیم شخصیتوں کی تربیت: عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں عظیم سے عظیم شخصیتوں کو یہ موقع نہیں دیا کہ معاشرہ کے عام افراد پر ان کا تسلط ہوسکے، یا وہ ان پر کسی طرح کی دست درازی کرسکیں، یا لوگوں پر کسی طرح اپنی برتری دکھا سکیں۔ اس سلسلہ میں چند واقعات اس طرح ہیں: ابوسفیان رضی اللہ عنہ اور مکہ میں ان کا گھر: سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ مکہ آئے، اہل مکہ آپ کے پاس دوڑتے ہوئے آئے اور کہا: امیر المومنین! ابوسفیان نے گھر بنایا ہے اور ہمارے گھروں کے پانی نکلنے کی نالیوں کو بند کردیا ہے تاکہ ہمارے گھر گر جائیں۔ [1] الشیخان بروایت بلاذری، ص:۲۲۱۔ [2] الشیخان بروایت بلاذری، ص: ۲۲۱ ۔ [3] الطبقات الکبرٰی : ۳/ ۲۸۸۔ الشیخان بروایت بلاذری، ص: ۲۲۲