کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 249
تو میں یہ پسند کروں گا کہ کاش میں مرگیا ہوتا۔[1] سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے نزدیک عمل ہی معیار برتری تھا: عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی نگاہ میں عمل ہی لوگوں میں برتری کا پیمانہ تھا، چنانچہ ایک مرتبہ جب آپ کے پاس قریش کے کئی اکابرین آئے، جن میں پیش پیش سہیل بن عمرو بن حارث اور ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ تھے اور دوسری طرف ماضی میں قریش کی غلامی میں رہ چکے کچھ ایسے لوگ بھی آئے جنہوں نے اسلام لانے میں سبقت کی تھی، جیسے صہیب اور بلال رضی اللہ عنہما وغیرہ۔ آپ نے ملاقات کی اجازت دینے میں ان محتاج غلاموں کو اوّلیت دی، اور قریش کے اکابرین اور ان بزرگوں کو بعد میں اجازت دی تو اکابرین قریش یہ عمل دیکھ کر بہت غصہ ہوئے، ابوسفیان رضی اللہ عنہ اپنے بعض ساتھیوں سے کہنے لگے: میں نے آج کی طرح ہوتے کبھی نہیں دیکھا تھا، عمر فاروق نے ان غلاموں کو ملاقات کی اجازت دے دی، اور ہمیں دروازے پر کھڑا رکھا؟ سہیل رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم، میں بھی آپ لوگوں کی ناراضی کو سمجھتا ہوں، اگر آپ لوگوں کو بہت غصہ آتا ہے تو اپنے اوپر غصہ کرو، وہ لوگ اسلام کی طرف بلائے گئے اور تمہیں بھی بلایا گیا، لیکن انہوں نے جلدی کی اور تم نے تاخیر کی، بتاؤ! قیامت کے دن کیا کرو گے جب وہ پہلے بلا لیے جائیں گے اور تم پیچھے رہ جاؤ گے۔ [2] سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ جنازہ میں حاضر ہوتے ہیں: ابوالاسود سے روایت ہے، فرمایا کہ میں مدینہ گیا، وہاں ایسے وقت پہنچا جب کہ وباء عام تھی، لوگ بہت تیزی سے مر رہے تھے، میں عمر بن خطاب کے پاس بیٹھ گیا، اتنے میں اِدھر سے ایک جنازہ گزرا، لوگوں نے میّت کا ذکر خیر کیا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واجب ہوگئی، پھر دوسرا جنازہ گزرا، اس کا بھی ذکر خیر کیا گیا، عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پھر فرمایا: واجب ہوگئی۔ پھر تیسرا جنازہ گزرا، لوگوں نے اس کی برائیوں کا ذکر کیا، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واجب ہوگئی۔ ابوالاسود نے پوچھا: اے امیر المومنین کیا چیز واجب ہوگئی؟ آپ نے جواب دیا: میں نے اسی طرح کہا ہے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا، یعنی ارشادِ نبوی ہے: (( اَیُّمَا مُسْلِمٍ شَہِدَ لَہٗ اَرْبَعَۃٌ بِخَیْرٍ اَدْخَلَہُ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ۔)) ’’جس مسلمان کے بارے میں چار مسلمان خیر کی گواہی دے دیں اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔‘‘ پھر ہم نے کہا: اور تین کی گواہی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وثلاثۃ‘‘ اور تین کی گواہی بھی۔ پھر ہم نے [1] مناقب عمر، ابن الجوزی، ص: ۷۴۔ اس کی سند منقطع ہے۔ محض الصواب: ۱/ ۳۶۸ [2] مستدرک حاکم: ۳/ ۲۶۶۔ امام ذہبی نے اس کی تصحیح کی ہے۔ أصحاب الرسول صلی اللّٰه علیہ وسلم: ۱/ ۱۷۴ [3] تہذیب الکمال، المزی: ۵/ ۵۰۵۔ حذیفۃ بن یمان، إبراہیم محمد العلی، ص:۶۲ ۸ [4] مختصر منہاج القاصدین، ص: ۱۰۰۔ فرائد الکلام، ص:۱۳۹ [5] أخبار عمر، ص: ۳۲۱