کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 237
(۳) عمر رضی اللہ عنہ کی معاشرتی زندگی اور نظامِ احتساب کا اہتمام سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی معاشرتی زندگی سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کی معاشرتی زندگی کتاب الٰہی اور سنت نبوی کی زندہ تصویر تھی، معاشرتی زندگی میں آپ کے افکار وکردار سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ آپ کی سیرت اسلامی زندگی کا مجسم نمونہ تھی۔ ذیل میں آپ کے چند افکار وکردار کا ذکر کیا جاتا ہے: ۱: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ اور خواتین کی خبر گیری: سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ مسلمان عورتوں، لڑکیوں اور ضعیف خواتین کی خصوصی دیکھ بھال کرتے تھے، انہیں ان کا حق دیتے اور ان پر کسی طرح کا ظلم نہیں ہونے دیتے تھے۔ جن خاندانوں کے مرد حضرات جہاد پر ہوتے ان کی تمام ضروریات پر نگاہ رکھتے، بیواؤں کے حقوق ان تک پہنچانے کے اس قدر حریص تھے کہ آپ نے یہاں تک کہہ دیا: ’’اگر اللہ نے مجھے صحیح سالم رکھا تو عراق کی کسی بیوہ کو محتاج نہ چھوڑوں گا جو میرے بعد کسی سے اپنی ضرورت مانگے۔‘‘ [1] یہاں بعض ایسے واقعات نقل کیے جا رہے ہیں جو زمانے کی پیشانی پر نورانی حروف سے کندہ کیے ہوئے ہیں۔ تیرا برا ہو، تو عمر کی خامیاں تلاش کرتا ہے: ایک رات عمر رضی اللہ عنہ گھر سے باہر نکلے، طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو دیکھ لیا، عمر رضی اللہ عنہ ایک گھر سے دوسرے گھر میں داخل ہوتے اور نکلتے، صبح ہوئی تو طلحہ رضی اللہ عنہ ان گھروں میں گئے، دیکھا تو ایک گھر میں اندھی بوڑھی خاتون بیٹھی ہیں، طلحہ نے اس خاتون سے پوچھا: ایک آدمی رات کو تمہارے پاس کس لیے آتا ہے؟ اس نے کہا: کافی عرصے سے وہ میرے پاس آتا ہے، ہماری ضروریات ہمیں دے جاتا ہے اور ہماری پریشانیوں کو دور کرتا ہے، یہ سن کر طلحہ رضی اللہ عنہ نے خود کو مخاطب کرکے کہا: ’’تیرا برا ہو، تو عمر کی خامیاں تلاش کرتا ہے۔‘‘ [2] معاشرہ کے کمزور لوگوں کی نگرانی اور خبر گیری کرنا نصرت وتائید الٰہی کا سبب اور عظیم ترین کار ثواب ہے۔ لہٰذا اسلامی تحریکات کے پیشواؤں، مسلمانوں کے حکام، مساجد کے ائمہ اور تمام مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ انسانیت کے اس مقصد کو اپنے معاشرہ میں وسیع کریں اور اسے پورا پورا حق دیں۔ [1] البدایۃ والنہایۃ (۸/۳۰۳)۔