کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 233
کہ آپ کا دربان ’’یرفا‘‘ آپہنچا، اور کہا کہ عثمان، عبدالرحمن بن عوف، زبیر اور سعد بن ابی وقاصرضی اللہ عنہم آپ سے ملنا چاہتے ہیں، کیا آپ انہیں اجازت دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں، آنے دو، وہ سب اندر آئے، سلام کیا، اور بیٹھ گئے۔ ’’یرفا‘‘ تھوڑی دیر بعد آیا اور کہنے لگا کہ علی اور عباس بھی ملنا چاہتے ہیں، کیا انہیں بھی اجازت ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، آنے دو، وہ دونوں اندر آئے، سلام کیا اور بیٹھ گئے۔ عباس نے کہا: اے امیر المومنین! میرے اور ان (علی) کے درمیان فیصلہ کردیجیے؟ دراصل ان دونوں کا جھگڑا اس مال فے کے لیے تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بنو نضیر سے ملا تھا۔ چنانچہ عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو لوگ آئے تھے انہوں نے کہا: اے امیر المومنین! ان دونوں کا فیصلہ کرکے معاملہ ختم کردیجیے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ لوگ اطمینان رکھیں، میں تم سے اللہ واحد کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، جس کے حکم سے زمین وآسمان قائم ہیں، کیا تمہیں یہ فرمان رسول معلوم ہے کہ ((لَا نُوْرِثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ.)) ’’ہم انبیاء کسی کو وارث نہیں بناتے ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود کو مراد لے رہے تھے؟ عثمان رضی اللہ عنہ کی پوری جماعت نے اقرار کیا کہ ہاں آپؐ نے یہ بات فرمائی ہے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ علی اور عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: میں تم دونوں سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، بتاؤ کہ کیا اس (مذکورہ) فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تمہیں علم ہے؟ انہوں نے اقرار کیا کہ ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اب میں تمہیں اس سلسلہ میں بتلاتا ہوں: اللہ نے اس مالِ فے کا کچھ حصہ اپنے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لیے خاص کردیا، اس میں آپ کے علاوہ کسی کا حق نہیں بتایا، پھر اس آیت کی تلاوت کی: وَمَا أَفَاءَ اللّٰهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَكِنَّ اللّٰهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ وَاللّٰهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (الحشر:۶) ’’اور جو ( مال) اللہ نے ان سے اپنے رسول پر لوٹایا تو تم نے اس پر نہ کوئی گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ اور لیکن اللہ اپنے رسولوں کو غالب کر دیتا ہے جس پر چاہتا ہے اور اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے ۔‘‘ بلاشبہ یہ مال خاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حق تھا، اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تمہارے علاوہ دوسروں کو نہیں دیا، نہ تم پر دوسروں کو ترجیح دی، تمہیں کو دیا اور تمہی میں عام کیا، یہاں تک کہ اس میں سے اتنا مال بچ گیا اور اس باقی ماندہ مال سے اللہ کے رسول اپنے گھرانے کا سالانہ خرچ چلاتے تھے اور اس سے جو بچ جاتا تھا اسے اللہ کے راستہ میں وقف کردیتے تھے۔ اللہ کے رسول نے پوری زندگی اسی پر عمل کیا، میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ لوگوں سے پھر پوچھتا ہوں کہ کیا آپ لوگوں کو یہ سب کچھ معلوم نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، معلوم ہے۔ پھر علی اور عباس رضی اللہ عنہما سے مخاطب ہو کر آپ نے یہی بات کہی کہ تم دونوں سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں: کیا یہ [1] فقہ السیرۃ النبویۃ، ص: ۵۲۹