کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 224
کچھ خرید وفروخت کرے تو تم بھی اس میں شریک ہوجاؤ اور پھر آمدنی کو اپنے اور اپنے اہل وعیال پر خرچ کرو۔ عاصم کہتے ہیں: پھر میں چلا گیا اور اسی طرح کیا۔ [1] ۶: اے معیقیب اسے لے لو اور بیت المال میں رکھ دو: معیقیب کا بیان ہے کہ دوپہر کے وقت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے بلوایا۔ میں پہنچا تو دیکھا کہ آپ اپنے بیٹے عاصم کو آواز دے رہے تھے ۔پھر مجھ سے کہا: کیا تمہیں کو معلوم ہے اس نے کیا کیا ہے؟ یہ عراق گیا اور وہاں کے لوگوں کو اس بات کا حوالہ دیا کہ میں امیر المومنین کا بیٹا ہوں، ان لوگوں سے اس نے خرچ مانگا اور انہوں نے محض میری وجہ سے اسے برتن، چاندی، مختلف سامان، اور تلوار دی ہے۔ عاصم نے کہا: کیا میں نے ایسا نہیں کیا ہے؟ میں تو اپنے لوگوں کے پاس گیا تھا اور انہوں نے مجھے یہ سب کچھ بغیر کسی طلب کے دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے معیقیب اسے لے لو اور مسلمانوں کے بیت المال میں جمع کروا دو۔ [2] یہ ہے اس مال کی چھان پھٹک کی مثال جسے انسان اپنے مقام ومنصب کی وجہ سے حاصل کرتا ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ جب امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے محسوس کیا کہ ان کے بیٹے عاصم نے اس مال کو محض امیرالمومنین کا بیٹا ہونے کی وجہ سے پایا ہے تو آپ نے اس مال کو عاصم کے پاس چھوڑنا مناسب نہ سمجھا۔ اس لیے کہ انہوں نے یہ مال بلا کسی محنت کے حاصل کیا تھا جس کی وجہ سے یہ مال شکوک وشبہات کے دائرے میں داخل ہوگیا تھا۔ [3] ۷: سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بیوی عاتکہ اور کستوری : سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بحرین سے کستوری اور عنبر آیا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم میری تمنا ہے کہ بہترین وزن کرنے والی کوئی عورت اگر مل جاتی تو اس خوشبو کو تول دیتی اور میں اسے مسلمانوں میں تقسیم کردیتا۔ آپ کی بیوی عاتکہ بنت زید بن عمرو بن نفیل نے کہا: میں بہت اچھا وزن کرلیتی ہوں لاؤ میں وزن کردیتی ہوں۔ آپ نے فرمایا: نہیں۔ انہوں نے کہا: کیوں؟ آپ نے فرمایا: مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم ہاتھ میں لگی ہوئی خوشبو کو سر اور گردن پر نہ لگا لو اور میں اس طرح دیگر مسلمانوں سے زیادہ حصہ پا جاؤں۔ [4] یہ ہے امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ورع وتقویٰ اور دینی امور میں سخت احتیاط کی روشن مثال کہ اپنی بیوی کو خوشبو تقسیم کرنے کی ذمہ داری محض اس لیے نہیں دی کہ کہیں ہاتھ میں لگی ہوئی خوشبو کو وہ گردن پر نہ پھیر لے اور مسلمانوں کا مال ناجائز طور سے اس کے تصرف میں آجائے۔ شبہ واحتمال کے باب میں ایسی غایت درجہ [1] الخلفاء الراشدون، النجار، ص: ۲۴۴ [2] فرائد الکلام للخلفاء الکرام، ص: ۱۱۳