کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 219
قدر کرنے پر ابھارتے رہتے تھے، اس لیے کہ اس سے اعمالِ صالحہ کی یاد یکے بعد دیگرے ہر نسل میں باقی رہتی ہے اور اسے ہر جماعت اپنے بعد والی جماعت کو بتاتی رہتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ کسی انسان کی قربانیوں اور اعمالِ صالحہ کو اس کی وفات ہوجانے یا اس کے غائب ہوجانے کی وجہ سے بھلایا نہیں جا سکتا اور یہ وفاداری اور ایمان داری کی اعلیٰ مثال ہے۔ [1] سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ عزت واحترام کے بارے میں کسی کے فضل وسبقت کو نظر انداز نہ کرتے تھے اور اس بات سے ہرگز راضی نہ تھے کہ متقدمین کی فضیلتوں کو طاق نسیاں میں رکھ دیا جائے۔ سچ تو یہ ہے کہ جو امت اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو بھلا دیتی ہے یا نظر انداز کردیتی ہے اس امت کی تباہی مقدر ہوجاتی ہے۔ کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ انہی اعلیٰ نقوش پر لوگوں کی تربیت کی جائے! عمر فاروق کی تربیت کتاب الٰہی اور سنت رسول پر ہوئی تھی، جنہوں نے آپ میں ایسا نکھار پیدا کیا کہ تربیت واخلاق کے موضوع پر قدیم وجدید کتابیں اس تربیت کی مثال پیش کرنے سے عاجز ہیں، اور آج بھی ہمارے درمیان اللہ کی کتاب اور رسول کی سنت موجود ومحفوظ ہے، اور اس میں تربیت واخلاق کے ایسے اصول ہیں جس کی نظیر ملنا ناممکن ہے۔ [2] ۵: بردباری: ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عیینہ بن حصن بن حذیفہ آئے اور اپنے بھتیجے حربن قیس [3] کے مہمان بنے۔ حر بن قیس عمر رضی اللہ عنہ کے قریبی لوگوں میں سے تھے اور جیسا کہ معلوم ہے کہ آپ کی مجلس شوریٰ کے تمام افراد حفاظ قرآن تھے۔ خواہ وہ بوڑھے ہوں یا جوان۔ بہرحال عیینہ نے اپنے بھتیجے سے کہا: اے میرے بھتیجے! کیا امیر المومنین تک تمہاری رسائی ہے؟ یا یوں کہا کہ امیر المومنین تک تمہاری رسائی ہے اس لیے میری ملاقات کے لیے اجازت مانگ لو۔ حر بن قیس نے کہا: میں ابھی اجازت لیتا ہوں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ حر بن قیس نے عیینہ کے لیے اجازت مانگی تو عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت دے دی۔ جب عیینہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو کہا: اے ابن خطاب! ذرا میری بات پر دھیان دیجیے۔ اللہ کی قسم آپ مجھے زیادہ وظیفہ نہیں دیتے اور عدل سے کام نہیں لیتے۔ عمر رضی اللہ عنہ سخت غصے ہوئے، یہاں تک کہ اسے مارنا چاہا، لیکن حر بن قیس بول اٹھے کہ امیر المومنین! یہ جاہل ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا ہے: خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ (الاعراف:۱۹۹) ’’آپ درگزر کو اختیار کریں، نیک کام کی تعلیم دیں اور جاہلوں سے کنارہ کش ہوجائیں۔‘‘ [1] اخبار عمر، ص: ۳۴۳۔ أصحاب الرسول، محمود المصری: ۱/ ۱۵۶ [2] مدارج السالکین: ۲/ ۳۳۰ [3] موطأ مالک: ۲/ ۹۹۲۔ اس کی سند صحیح ہے۔ [4] مالک بن عوف اشجعی مشہور صحابی ہیں ۔ فتح مکہ کے موقع پر اسلام لانے والوں میں سے ہیں ۔ [5] مناقب عمر، ابن الجوزی، ص: ۱۴۔ محض الصواب: ۲/ ۵۸۶