کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 207
(۲) سیّدناعمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اوصافِ حمیدہ، عائلی ومعاشرتی زندگی اور اہل بیت کا احترام اوصافِ حمیدہ : عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اوصاف کو صیقل کرنے میں ایمان باللہ اور فکر آخرت کی اصل تاثیر تھی اور ایمان ہی نے آپ کی شخصیت کو متوازی، با رعب اور پرکشش بنا دیا تھا۔ اسی ایمانی قوت کا نتیجہ تھا کہ آپ کی قوت آپ کی عدالت پر، سطوت آپ کی رحمت پر اور مالداری آپ کی تواضع پر غالب نہ آسکی، اور آپ اللہ کی تائید ونصرت کے مستحق ہوئے، آپ نے کلمہ توحید کی تمام شرطوں یعنی علم، یقین، قبول ، انقیاد، اخلاص اور محبت کو عملاً پورا کیا۔ آپ کو ایمان اور کلمہ توحید کی حقیقی معرفت حاصل تھی۔ چنانچہ آپ کے پختہ ایمان کے اثرات آپ کی زندگی میں موقع بموقع سامنے آتے رہے، اس کی چند اہم مثالیں یہاں پیش کی جا رہی ہیں: ۱: خشیت الٰہی اور محاسبۂ نفس: عمر فاروق رضی اللہ عنہ اکثر فرماتے تھے: ’’جہنم کو کثرت سے یاد کرو، اس کی گرمی سخت ہے، اس کی گہرائی بہت طویل ہے، اس کا ٹھکانا بہت سخت ہے۔‘‘ [1] ایک دن ایک بدوی آپ کے پاس آیا اور کھڑا ہو گیا، پھر یہ اشعار پڑھنے لگا: یا عمر الخیر جزیت الجنۃ جہز بنیّاتی وأمہنّہ ’’اے خیر وبھلائی کے جامع عمر! تم بدلہ میں جنت دئیے جاؤ، میری بچیوں اور ان کی ماں کے لیے ساز وسامان مہیا کردو۔‘‘ اقسم باللہ لتفعلنّہ۔ ’’میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں، آپ اسے ضرور بالضرور کریں۔‘‘ آپ نے فرمایا: اے اعرابی! اگر میں اسے پورا نہ کرسکوں تو کیا ہوگا؟ اس نے کہا: أقسم إنی سوف أمضینہ ۔ [1] مستدرک حاکم: ۳/ ۸۱۔۸۲۔ امام ذہبی نے اس روایت کی تصحیح کی ہے۔ [2] محض الصواب: ۱/ ۳۱۲ [3] محض الصواب: ۱/ ۳۱۳