کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 206
انہوں نے لبید بن ربیعہ اور عدی بن حاتم رضی اللہ عنہما کو بھیجا، وہ دونوں مدینہ آئے اور مسجد کے صحن میں اپنی اپنی سواری کو بٹھا دیا، پھر دونوں مسجد میں داخل ہوئے، وہاں عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے دونوں کی ملاقات ہوئی۔ انہوں نے عمرو بن عاص سے کہا: امیر المومنین سے ہمارے لیے ملاقات کی اجازت مانگ لیجیے۔ عمرو رضی اللہ عنہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہا: السلام علیکم اے امیر المومنین! عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابن العاص! اس (نام) میں تمہیں کیا خوبی نظر آگئی؟ تمہاری بات کی وجہ سے مجھے نکلنا ہی پڑے گا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، لبید بن ربیعہ اور عدی بن حاتم آئے اور انہوں نے کہا کہ ’’امیر المومنین‘‘ سے ہماری ملاقات کے لیے اجازت مانگ لیجیے، تو میں نے کہا: اللہ کی قسم، تم دونوں نے آپ کا درست وبہتر نام لیا۔ وہ امیر ہیں اور ہم مومن ہیں۔ اسی دن سے آپ کو امیر المومنین لکھا جانے لگا۔ [1] ایک اور روایت میں ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم سب مومن ہو اور میں تمہارا امیر ہوں، پس آپ نے خود کو ’’امیر‘‘ سے موسوم کیا۔ [2] اس روایت کے مطابق سیّدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے خود ہی اپنے کو ’’امیر المومنین‘‘ کہا۔ بہرحال ایک محقق اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مجموعی گفتگو پر غور کرے گا تو وہ یہی کہے گا کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کو ’’امیر المومنین‘‘ کہنے پر متفق تھے اور آپ کے دورِ حکومت میں تمام ریاستوں میں آپ کو ’’امیرالمومنین‘‘ کہا جانے لگا تھا۔ [3]  [1] فتح الباری: ۷/ ۲۶۸۔ الخلافۃ الراشدۃ، یحیٰی الیحیٰی، ص: ۲۸۶ [2] جولۃ تاریخیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین، محمد الوکیل، ص: ۹۰ [3] الطبقات الکبرٰی، ابن سعد: ۳/ ۲۸۱۔ محض الصواب: ۱/ ۳۱۱ [4] آپ ابوخیثمہ العدوی المدنی ہیں ، ثقہ ہیں ، علم انساب کے ماہر تھے، تیسرے طبقہ کے ہیں ۔ التقریب، ص:۶۰۷ [5] آپ شفاء بن عبداللہ العدویہ ہیں ۔ ہجرت سے پہلے مسلمان ہوئیں ۔ [6] محض الصواب: ۱/ ۳۱۲