کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 200
غافل ہیں۔ [1] بس اتنے ہی مفاسد اس استدلال کے لیے کافی ہیں کہ موجودہ دور میں کتابیہ عورتوں سے شادی کرنا حرام ہے۔ کتابیہ عورت سے شادی کرنے کے لیے سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے جن قیود وشرائط کو وضع کیا، بلاشبہ ملک کی عظیم مصلحتوں اور اسلامی معاشرے کے بلند ترین اہداف ومقاصد سے ان کا بہت گہرا تعلق ہے۔ غیر ملکی اور دوسرے مذاہب کی عورتوں سے اپنے لڑکوں کی شادی کرنے میں جو نقصانات ہیں اور اس کی وجہ سے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ملک کو جو خطرات درپیش ہوتے ہیں، ان مفاسد کو بیدار قوموں نے اچھی طرح پہچان لیا اور ان سے حفاظت کی خاطر قوانین وضع کیے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو مختلف میدانوں میں اپنے ملک کی نیابت کرتے ہیں۔ اس احتیاطی اقدام کے لیے جائز اور معتبر اسباب بھی ہیں، مثلاً یہ کہ بیوی اپنے شوہر کے تمام اسرار ورموز سے اگرچہ واقف نہ ہوسکے لیکن شوہر سے باہمی محبت وتعلق کے اعتبار سے اس کے بیشتر اسرار و احوال سے وہ واقف ہو ہی جاتی ہے۔ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ پیش نظر موضوع کے شدت اہتمام میں اپنے بعد آنے والے تمام حکمرانوں کے لیے ہر دور میں ایک تجربہ کار اور کامل استاد مانے گئے۔ سچ تو یہ ہے کہ کتابیہ عورتوں سے شادی کرنے میں بہت زیادہ مفاسد ہیں، ہم ان سے ناواقف ہیں، وہ ہر چیز میں ہماری شریعت میں مخالفت کرتی ہیں، ان میں سے اکثر اپنے دین پر باقی رہتی ہیں، وہ ایمان کی حلاوت اور اس میں شوہروں کے تئیں وفاداری اور عزت واحترام کی جو تعلیم ہے اس سے نابلد ہوتی ہیں۔ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے اپنی دینی بصیرت، لوگوں کی طبیعتوں سے اچھی واقفیت اور مسلمانوں کے نفع ونقصان کے بارے میں بہترین معرفت کے نتیجہ میں ان نقصانات کو بھانپ لیا اور اس سلسلہ میں فوراً اور سخت حکم نافذ کیا۔ [2] خلافت راشدہ کے عہد میں آزادی محفوظ ومضبوط تھی، اس کی حدود اور شرائط تھیں اسی لیے مسلم معاشرہ عروج پر رہا اور ترقی کی منزلیں طے کرتا رہا۔ پس آزادی فرد اور معاشرہ دونوں کا بنیادی حق ہے جس سے وہ اپنی شخصیت میں نکھار اور صلاحیتوں میں نمو پیدا کرتا ہے اور معاشرہ سے آزادی کو چھین لینا، اس کے اہم ترین عناصر کو چھین لینے کے مترادف ہے، بلکہ وہ موت سے زیادہ مشابہ ہے۔ اسلامی آزادی داخلی نور ہے جس نے انسانوں کو اللہ سے جوڑ کر ان کے دلوں کو منور کر دیا اور وہ اس تعلق الٰہی کی وجہ سے رفعت وبلندی کی منزلوں تک پہنچ گئے، وہ آسمانوں اور زمین کے ربّ کی رضامندی کے لیے نیک اعمال اور کارِ خیر میں سبقت کرنے کے عادی ہوگئے۔ گویا آزادی اسلامی معاشرہ کے ستونوں میں سے ایک ستون [1] الفقہ علی المذاہب الأربعۃ، عبدالرحمن الجزائری: ۵/ ۷۶،۷۷ [2] فقہ الأولویات، محمد الوکیلی، ص:۷۷ [3] فقہ الأولویات، محمد الوکیلی، ص: ۷۸