کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 199
اس آیت کریمہ کی روشنی میں ہر مشرکہ عورت سے مسلمانوں کا نکاح کرنا حرام ہے جب کہ دوسری آیت کریمہ میں کتابیہ عورتوں سے نکاح کرنا مسلمانوں کے لیے جائز قرار دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ (المائدۃ:۵) ’’اور (حلال کی گئی ہیں تمہارے لیے) پاک دامن مسلمان عورتیں اور جو لوگ تم سے پہلے کتاب دیے گئے ہیں ان کی پاک دامن عورتیں بھی حلال ہیں۔‘‘ چنانچہ جمہور علماء کی رائے کے مطابق پہلی آیت کریمہ کے عمومی حکم سے دوسری آیت کریمہ کے حکم کو خاص کرلیا گیا ہے۔ [1] تاہم ان کا کہنا ہے کہ مسلمان عورتوں سے شادی کرنا افضل ہے۔ کتابیہ سے رشتہ نکاح کے جواز کے لیے جمہور کے نزدیک یہ شرط ہے کہ یہ اجازت اس وقت ہے جب مسلم معاشرہ میں دوسری اولاد یا شوہر کو اس سے کسی نقصان کا اندیشہ نہ ہو اور اگر فتنہ و فساد کا خوف ہو تو شادی جائز نہیں ہے۔ جمہور کی اس رائے کی تائید بعض معاصر علماء نے بھی کی ہے۔ [2] درحقیقت سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سب سے پہلے ہی اس رائے کا اظہار کرچکے ہیں، آپ اوّل ترین فرد ہیں جنہوں نے کتابیہ عورتوں سے شادی کرنا منع کیا اور اس ممانعت کے پیش نظر دو دلیلیں تھیں: ۱۔ یہ عمل مسلم بالغ لڑکیوں کی ناقدری اور ان کی شادی میں رکاوٹ کا سبب ہے۔ ۲۔ کتابیہ عورت مسلمان اولاد کے دین اور اخلاق کو خراب کردیتی ہے۔ ممانعت کے لیے تو بس یہی دو دلیلیں کافی ہیں، لیکن اگر ہم عصر حاضر کے حالات کا جائزہ لیں، تو دوسرے ایسے مفاسد ہمارے سامنے ہیں جن کے پیش نظر اس ممانعت میں مزید سختی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ [3] جمیل محمد مبارک چند اہم مفاسد کو مختصراً اس طرح بیان کرتے ہیں: ٭ شادی کے پس پردہ کتابیہ عورت کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف جاسوسی کرے۔ ٭ کافرانہ طور طریقوں کا مسلمان ملکوں میں رائج کرے۔ ٭ مسلمانوں کو اس بات پر ابھارنا کہ کافروں کی شہریت اختیار کرے۔ ٭ کتابیہ عورتوں سے شادی کرنے والے مسلمانوں کی اس حد تک جہالت وپستی کہ وہ کتابیہ عورت کے ہاتھ میں کھلونا بن کر رہ جاتے ہیں۔ ٭ کتابیہ عورتوں سے شادی کرنے والوں کا احساس کمتری، جس کی وجہ محض یہ ہے کہ وہ اللہ کے دین سے [1] تفسیر ابن کثیر: ۱/ ۲۶۵ اس کی سند صحیح ہے۔ [2] الأحوال الشخصیۃ، أبوزہرۃ، ص: ۱۰۴ [3] فقہ الأولویات دراسۃ فی الضوابط، محمد الوکیلی، ص: ۷۷