کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 196
ذَرْوًا (1) فَالْحَامِلَاتِ وِقْرًا (2) (الذاریات:۱۔۲) ’’قسم ہے ان (ہواؤں) کی جو اڑا کر بکھیرنے والی ہیں!پھر ایک بڑے بوجھ (بادل ) کو اٹھانے والی ہیں۔‘‘ (ان آیات سے کیا مراد ہے؟) آپ نے فرمایا: کیا تم ہی ہو؟ پھر آپ اس کی طرف بڑھے اور اپنی آستینیں چڑھالیں اور برابر اسے درّے لگاتے رہے یہاں تک کہ اس کی پگڑی گر گئی۔ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’اللہ کی قسم، اگر تمہارا سر حلق کیا ہوتا تو میں تیرے سر پر مارتا۔‘‘ پھر فرمایا: ’’اسے اس کا کپڑا پہنا دو اور اونٹ کے کجاوے پر بٹھا دو اور اسی حالت میں اسے اس کے وطن پہنچا دو۔ پھر وہاں جا کر مجمع عام کو کوئی خطاب کرے اور کہے: ’’صبیغ [1] نے علم حاصل کرنا چاہا لیکن اس کو علم حاصل نہ ہوسکا۔‘‘ اس طرح وہ اپنی قوم میں رسوائی کی زندگی گزارتا رہا یہاں تک کہ مرگیا۔ [2] ۲: آزادی رائے کے بہانے لوگوں کی عزتوں پر حملہ کرنا: سیّدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حُطَیئہ [3] کو درج ذیل شعر کے ذریعہ سے زبرقان بن بدر [4]کی ہجو کرنے کی وجہ سے قید کردیا۔ اس نے کہا تھا: دع المکارم لا ترحل لبغیتہا واقعد فانک انت الطاعم الکاسی[5] ’’بلند اخلاق کی تلاش چھوڑ دو، اس کے لیے سفر نہ کرو اور گھر میں بیٹھ جاؤ، تم تو صرف کھانے والے اور کپڑا پہننے والے ہو۔‘‘ اس شعر میں اس نے آپ کو عورتوں سے اس سلسلہ میں تشبیہ دی تھی کہ انہیں گھروں میں بٹھا کر کھلایا، پلایا اور کپڑے پہنائے جاتے ہیں۔ [6]سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے حطیئہ کو دھمکی دی کہ اگر اس نے مسلمانوں کی ہجو بند نہ کی اور ان کی عزتوں پر حملہ کیا تو اس کی زبان کاٹ دی جائے گی۔ حطیئہ نے پس دیوار زنداں قید کی حالت میں آپ سے نرمی کا مطالبہ کیا اور یہ اشعار پڑھے: ما ذا أقول لا فراخ بذی مرخ زغب الحواصل لا ماء ولا شجر ’’بے آب وگیاہ ذی مرخ کے نونہالوں سے میں کیا کہوں جن کے ابھی بال وپر بھی نہیں اُگے۔‘‘ [1] تفسیر ابن کثیر: ۲/ ۲۱۳ بسند زبیر بن بکار، اس کی سند منقطع ہے۔ نیز دیکھیے مسند ابوحاتم اور سنن بیہقی اور بیہقی نے کہا کہ یہ روایت مرسل جید ہے۔ [2] مجمع الزوائد: ۴/ ۲۸۳ ابویعلی نے کہا کہ اس کی سند جید ہے۔ [3] یہ واقعہ شام کے راستہ میں پڑنے والے شہر قسطنطین جاثلیق کا ہے۔ [4] الأ ہواء والفرق والبدع وموقف السلف منہا، د/ ناصر العقل، ص: ۲۲۳