کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 194
سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے آزاد تعمیری سیاست کی سرگرمی یعنی نصیحت وخیر خواہی کو رعایا پر ایک واجبی ذمہ داری قرار دے دیا تھا اور حاکم و قت کا یہ حق ہے کہ رعایا سے نصیحت کا مطالبہ کرے۔ آپ نے فرمایا: ’’اے ہماری رعایا کے لوگو! تم پر ہمارا یہ حق ہے کہ ہماری غیر موجودگی میں خیر خواہ رہو اور خیر پر ہماری مدد کرو۔‘‘ [1] آپ کی نگاہ میں امت مسلمہ کے ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ آپ کی نگرانی کرتا رہے اور اگر آپ سیدھے راستہ سے ہٹتے ہیں تو ٹیڑھے پن کو درست کرے خواہ تلوار ہی کے ذریعہ سے ہو۔ آپ نے فرمایا: ’’اے لوگو! تم میں جو شخص مجھ میں ٹیڑھا پن دیکھے وہ اسے درست کردے۔‘‘ [2] آپ کہا کرتے تھے: ’’میرے نزدیک سب سے پسندیدہ وہ شخص ہے جو میرے عیوب سے مجھے آگاہ کرے۔‘‘ [3] اور آپ کا قول ہے: ’’مجھے خوف ہے کہ میں غلطی کروں اور میرے ڈر سے کوئی مجھے سیدھا راستہ نہ دکھائے۔‘‘ [4] ایک دن ایک آدمی آپ کے پاس آیا اور مجمع عام کے سامنے کہا: اے عمر! اللہ سے ڈرو۔ بعض لوگ اس کی بات سن کر غصہ ہوگئے اور اسے خاموش کرنا چاہا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: تم میں کوئی خیر نہیں اگر تم عیب کو نہ بتاؤ اور ہم میں کوئی خیر نہیں اگر ہم اس کو نہ سنیں۔ [5] ایک دن آپ لوگوں کے درمیان خطبہ دینے کھڑے ہوئے، آپ نے اتنا ہی کہا تھا: ’’اے لوگو! سنو اور اطاعت کرو‘‘ کہ ایک آدمی نے بات کاٹتے ہوئے کہا: ’’اے عمر! نہ ہم سنیں گے اور نہ اطاعت کریں گے۔‘‘ عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے نرمی سے پوچھا: اللہ کے بندے کیوں؟ اس نے کہا: اس لیے کہ بیت المال سے جو کپڑا سب میں تقسیم کیا گیا اس سے لوگ صرف قمیص بنوا سکے، جوڑا مکمل نہیں ہوا اور آپ کو بھی اتنا ہی کپڑا ملا ہوگا، پھر آپ کا جوڑا کیسے تیار ہوگیا؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اپنی جگہ ٹھہرے رہو، اور پھر اپنے بیٹے عبداللہ کو بلایا۔ عبداللہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے والد کو اپنے حصے کا کپڑا دیا ہے تاکہ ان کا لباس مکمل ہوجائے۔ یہ سن کر صحابہ مطمئن ہوگئے اور اس آدمی نے کہا: اے امیر المومنین! اب سنوں گا اور اطاعت کروں گا۔ [6] ایک موقع پر آپ نے خطبہ دیا اور فرمایا: ۴۰ اوقیہ سے زیادہ عورتوں کا مہر مقرر نہ کرو، اگرچہ وہ ذی القصہ [1] نظام الحکم فی عہد الخلفاء الراشدین، حمد الصمد، ص: ۱۹۲ [2] إعلام الموقعین: ۱/ ۶۵ [3] السلطۃ التنفیذیۃ، دہلوی: ۲/ ۷۳۸ [4] خبار عمر، ص: ۳۳۱۔ ۳۳۲ بحوالہ: الریاض النضرۃ [5] نظام الحکم فی عہد الخلفاء الراشدین، ص: ۱۹۷