کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 189
یہودیوں نے غداری کی تھی اور اپنے عہد و پیمان کو توڑا تھا، لہٰذا یہ ایک فطری تقاضا تھا کہ وصیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نافذ کرتے ہوئے وہ جزیرہ عرب سے باہر نکال دیے جائیں، عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو ’’تیماء‘‘ اور ’’اریحا‘‘ بھیج دیا۔ رہے نجران کے نصاریٰ تو انہوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو معاہدے کیے تھے اور دورِ صدیقی میں اس کی تجدید کی تھی انہیں پورا نہ کیا، بعض شرائط کی خلاف ورزی کی، سود خور ہوگئے اور سودی کاروبار کرنے لگے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں نجران سے عراق بھیج دیا اور وہاں کے حکام کو لکھا کہ: ’’شام اور عراق کے جن امراء کے پاس یہ جائیں وہ انہیں بنجر زمین دیں اور جس زمین کو وہ خود قابل زراعت بنا لیں گے تو ان کی زمینوں کے بدلے اور اللہ کی رضا کی خاطر انہیں وہ زمینیں دے دی جائیں۔‘‘ چنانچہ وہ عراق آئے اور کوفہ کے ایک گاؤں ’’نجرانیہ‘‘ کو اپنا مسکن بنایا۔ [1] امام ابویوسف کا کہنا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے بارے میں نصاریٰ سے ڈر رہے تھے۔ [2] یہود ونصاریٰ کے اخراج سے متعلق دیگر اسباب کے مہیا ہوجانے کے بعد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کی تنفیذ کے پیش نظر عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے بارے میں جو سیاست اپنائی اس کی صداقتیں آج بھی جھلک رہی ہیں، نیز بغیر کسی سختی، ظلم اور تعدی کے جب جزیرۂ عرب سے ان کے اخراج کے جائز اسباب آپ کو مہیا ہوگئے تو آپ نے نجران کے نصاریٰ اور خیبر کے یہودیوں کے مرکزی ٹھکانوں پر جو ٹھوس وار کیا اس میں بھی آپ کی فقہی بصیرت نمایاں ہے۔ ان واقعات میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح آپ نے اسلام کے خلاف مکر وسازش کا ٹھکانا تیار ہونے سے پہلے ہی اسے ڈھا دیا، تاکہ زندہ اسلامی حکومت کے خاتمہ کے لیے لائحہ عمل تیار کرنے کا مخالفین کو موقع ہی نہ مل سکے۔ ۳۔ حق امن، رہائش گاہ کی حرمت اور ملکیت کی آزادی: حق امن: متعدد قرآنی آیات اور احادیث نبوی میں حق امن سے متعلق اسلامی تعلیمات موجود ہیں۔ ارشادِ الٰہی ہے: فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ (البقرۃ: ۱۹۳) ’’ظالموں کے سوا کسی پر کوئی زیادتی نہیں۔‘‘ اور فرمایا: [1] السنن الکبرٰی، البیہقی: ۹/ ۲۰۸۔ رقم الحدیث: ۱۸۷۵۱ مصنف عبد الرزاق: ۶/ ۵۳۔ رقم الحدیث: ۹۸۸۴۔ [2] صحیح البخاری، کتاب الشروط حدیث نمبر: ۲۷۳۰