کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 186
لڑائی کریں گے، مزید ہمارا یہ عہد ہے کہ ان کے اور ان کے فیصلوں کے درمیان ہم حائل نہ ہوں گے مگر یہ کہ وہ خوشی خوشی ہمارے فیصلے کو ماننے کے لیے آگے آئیں تو ہم ان کا فیصلہ کریں گے اور اگر وہ ہم سے دور رہے تو ہم ان سے چھیڑ چھاڑ نہیں کریں گے۔‘‘ [1] سیّدناعمر رضی اللہ عنہ ذمیوں کی غلطیوں سے بہت درگزر کرتے تھے، یہاں تک کہ اگر وہ کبھی جزیہ دینے سے عاجز رہتے تو آپ انہیں معاف کردیتے۔ ابوعبیدہ نے اپنی کتاب ’’الاموال‘‘ میں ذکر کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ ایک گھر کے دروازے سے گزرے اس پر ایک بھکاری آواز لگا رہا تھا: ’’بہت بوڑھا ہوں، اندھا ہوں، دکھائی نہیں دیتا۔‘‘ آپ نے پیچھے سے اس کے بازو پر مارا اور کہا تم یہودی ہو یا نصرانی؟ اس نے کہا: یہودی۔ آپ نے پوچھا: میں جو دیکھ رہا ہوں اس کام پر تم کو کس چیز نے مجبور کیا؟ اس نے کہا: میں جزیہ کی ادائیگی، ضرورت کی تکمیل اور بڑھاپے کی وجہ سے مانگ رہا ہوں۔ آپ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنے گھر لے گئے اور گھر سے کچھ دیا۔ پھر اسے بیت المال کے خازن کے پاس بھیجا اور کہا: اسے اور اس طرح کے جو دوسرے لوگ ہوں ان کاخیال رکھو۔ اللہ کی قسم یہ انصاف نہیں ہے کہ ہم اس کی جوانی کو کھالیں، پھر بڑھاپے میں اسے رسوا کریں۔ اس کے بعد آپ نے اس سے اور اس طرح کے دوسرے لوگوں سے جزیہ معاف کردیا۔ [2] اور پھر اپنے تمام گورنروں کے نام اس معاملے میں یہی فرمان جاری کیا۔ [3] یہ تمام واقعات اسلامی انصاف پسندی پر دلالت کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس بات کے ہمیشہ حریص رہے کہ آپ کی حکومت عدل وانصاف اور رعایا کے ساتھ نرمی کی بنیادوں پر قائم رہے، اگرچہ رعایا غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو۔ اس طرح خلافت راشدہ کی مدت میں مذہبی آزادی واضح شکلوں میں موجود رہی، ملکی سطح پر اس کی نگرانی ہوتی رہی اور شریعتِ ربانی کے ساتھ محفوظ رہی۔ ۲۔ آمد ورفت اور صبح وشام چلنے پھرنے کی آزادی: عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس آزادی کے شدید خواہش مند تھے، البتہ آپ نے بعض استثنائی حالات میں ضرورت کے پیش نظر اس کے ساتھ کچھ شرائط مقرر کر دیں تاہم وہ استثنائی حالات بھی بہت کم ہیں۔ ہم مثال کے طور پر یہاں صرف دو حالتوں کا تذکرہ ان کی اہمیت کے پیش نظر بیان کر رہے ہیں: ٭:سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کبار صحابہ کو مدینہ سے باہر مفتوحہ علاقوں کا سفر کرنے سے روک دیا، مگر یہ کہ آپ سے اجازت لے لیں، یا کوئی سرکاری ذمہ داری دے کر انہیں بھیجا جائے، جیسا کہ کسی کو گورنر یا فوجی کمانڈر وغیرہ بنانا [1] تاریخ الطبری: ۴/ ۱۵۸ [2] البدایۃ والنہایۃ: ۷/ ۹۸ [3] السلطۃ التنفیذیۃ، د/ محمد الدہلوی: ۲/ ۷۲۵ [4] السلطۃ التنفیذیۃ، د/ محمد الدہلوی: ۲/ ۷۲۵ آپ نے اس مسئلہ کو خوب تفصیل سے بیان کیا ہے۔ [5] حقوق الإنسان بین تعالیم الإسلام واعلان الأمم المتحدۃ، ص: ۱۱۱