کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 183
۱: مذہبی عقیدہ کی آزادی: [1] مذہب اسلام نے کسی فرد کو زبردستی اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا بلکہ اسے اللہ کی مخلوق، اس کی کائنات اور دین کے بارے میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی اور اپنے ماننے والوں کو حکم دیا کہ لوگوں سے اچھے طریقے سے گفتگو کریں۔ فرمان الٰہی ہے: لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرۃ: ۲۵۶) ’’دین میں کوئی زبردستی نہیں۔‘‘ اور فرمایا: فَإِنْ أَعْرَضُوا فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا إِنْ عَلَيْكَ إِلَّا الْبَلَاغُ (الشورٰی: ۴۸) ’’پھر اگر وہ منہ پھیر لیں تو ہم نے تجھے ان پر کوئی نگران بنا کر نہیں بھیجا، تیرے ذمے پہنچا دینے کے سوا کچھ نہیں۔‘‘ اور فرمایا: ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ (النحل: ۱۲۵) ’’اپنے رب کے راستہ کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلا اور ان سے اس طریقے کے ساتھ بحث کر جو سب سے اچھا ہے۔ بے شک تیرا رب ہی زیادہ جاننے والا ہے جو اس کے راستہ سے گمراہ ہوا اور وہی ہدایت پانے والوں کو زیادہ جاننے والا ہے۔‘‘ اور فرمایا: وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِي أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَأُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَإِلَهُنَا وَإِلَهُكُمْ وَاحِدٌ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ (العنکبوت: ۴۶) ’’اور اہل کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر اس طریقے سے جو سب سے اچھا ہو، مگر وہ لوگ جنھوں نے ان میں سے ظلم کیا اور کہو ہم ایمان لائے اس پر جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور تمھاری طرف نازل کیا گیا اور ہمارا معبود اورتمھارا معبود ایک ہے اور ہم اسی کے فرماںبردار ہیں۔‘‘ [1] نظام الحکم فی عہد الخلفاء الراشدین، حمد حمد الصمد، ص: ۱۵۷، ۱۵۸