کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 181
نکلے۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اور (قسطنطنیہ) نصرانی بن کر پہنچا، لیکن بعد میں اپنے اس فیصلہ پر وہ بہت شرم سار ہوا اور اس واقعہ کو بہترین اشعار میں بیان کیا، جسے تاریخ برابر دہراتی اور نقل کرتی ہے۔ اس واقعہ میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ شریعت کے مبدأ مساوات کی حفاظت کے کتنے حریص تھے۔ یقینا اسلام نے حاکم اور رعایا کے درمیان مساوات قائم کی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ مساوات کی مثالیں عملی شکل میں زندہ جاوید رہیں نہ کہ زبان، تحریر اور اشعار تک اس کا نعرہ محدود رہے کہ جسے صرف زبانیں گنگناتی رہیں۔ [1] اس میں کوئی شک نہیں کہ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے مساوات کے ان اصولوں کو نافذ کیا جنہیں ربّ العالمین کی شریعت میں ذکر کیا گیا ہے۔ آپ نے اس کی زندہ وپائندہ مثالیں قائم کیں جو لوگوں کے ذہنوں میں نقش ہو گئیں، آپ شفقت پدری کے آگے نہ جھکے، بھاری بھرکم القاب سے خائف ہو کر اپنے فیصلوں سے نہیں پلٹے اور نہ کسی کی تبدیلی مذہب یا فاتح ملک کی آن بان نے آپ کو مرعوب کیا۔ مساوات کا عظیم اصول آپ کے نزدیک حقیقی شکل میں موجود اور زندہ تھا، اسے حاکم ومحکوم اور ہر مقہور ومظلوم نے محسوس کیا۔ [2] یہی وجہ ہے کہ خلافت راشدہ کے مسلم معاشرہ میں مساوات کے اصولوں کی تنفیذ کا بہترین ثمرہ ملا اور احساس مساوات نے اس دور کے لوگوں پر بہت اچھا اثر چھوڑا، انہوں نے اعزاز وبرتری، سرداری اور اولیت کے دعووں کی زمانے سے چلی آرہی عصبیت کو پھینک دیا اور جاہلیت پر مبنی حسب ونسب کی تفریق کو مٹا دیا۔ کسی بھی اعلیٰ منصب پر فائز آدمی نے ادنیٰ درجہ کے آدمی پر ظلم کرنے کو نہ سوچا، نہ کوئی کمزور اپنا حق پانے سے مایوس رہا۔ حقوق وواجبات میں سب برابر رہے، خلافت راشدہ کے مسلم معاشرہ میں مساوات کے اصول نئی روشنی بن کر چمکے جس سے اسلام نے اسلامی معاشرہ کے چپے چپے کو روشن کردیا، یقینا صالح معاشرہ کے وجود میں مساوات کے اصولوں کا زبردست اثر تھا۔ [3] آزادیاں: خلفائے راشدین کی حکومتیں جن اہم اصولوں پر قائم تھیں ان میں سے ایک اصول ’’آزادی‘‘ کا بھی تھا۔ اس اصول کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلامی شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے تمام انسانوں کو ہر طرح کی آزادی کی ضمانت دی جائے۔ اسلام کی دعوت درحقیقت انسانوں کی مکمل آزادی کی دعوت تھی، تمام انسانوں کی آزادی، ایسی وسیع وعریض دعوت کہ شاید تاریخ میں کم ہی اس کی مثال مل سکے۔ آزادیوں کی دعوت کے میدان میں سب سے پہلے قرآنی آیات کی روشنی میں لوگوں کو اللہ کی وحدانیت کی دعوت دی گئی، کائنات کی ہر شے اور تمام مخلوقا ت [1] ابن خلدون: ۲/ ۲۸۱ بحوالہ نظام الحکم، القاسمی: ۱/ ۹۰