کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 176
سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ملک میں مساوات اور برابری کی جن بنیادوں پر حکومت قائم کی وہ ان اہم بنیادوں میں سے ایک ہے جسے اسلام نے نافذ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللّٰهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ (الحجرات:۱۳) ’’اے لوگو! بے شک ہم نے تمھیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور ہم نے تمھیں قومیں اور قبیلے بنا دیا، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، بے شک تم میں سب سے عزت والا اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے، بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔‘‘ بے شک حاکم اور محکوم، مرد وعورت، عرب وعجم، سفید و سیاہ سب لوگ اسلام کی نگاہ میں برابر ہیں۔ اسلام نے جنس، رنگ، نسب، طبقہ، حاکم اور محکوم کی بنیادوں پر انسانوں کی ہر تفریق کو مٹا دیا ہے۔ شریعت کی نگاہ میں سب کے سب برابر ہیں۔ [1] اس اصول کو زندہ کرنے میں عمر رضی اللہ عنہ کا کارنامہ بہترین نمونہ بن کر سامنے آیا۔ لہٰذا اس مقام پر آپ کے ان بعض مواقف کا تذکرہ کیا جاتا ہے جن سے آپ کے ملک میں عدل ومساوات کی بنیادوں کو استحکام ملا: (۱)… عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مدینہ اور اس کے قرب وجوار کے لوگ قحط سالی کے شکار ہوئے، مدینہ کو ایسے وقت میں پانی کی سخت ضرورت تھی جب کہ زمین سے ریت اور دھول اڑ رہی تھی، [2] اسی لیے اس سال کو ’’عام الرمادۃ‘‘ یعنی ریت والا سال کہا جاتا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر قسم کھا لی کہ پنیر، دودھ اور گوشت وغیرہ اس وقت تک نہیں کھاؤں گا جب تک کہ لوگ پہلے جیسی زندگی نہ پالیں۔ اتفاق سے بازار میں گھی کا ایک ڈبہ اور دودھ کی ایک مشک آئی، عمر رضی اللہ عنہ کے غلام نے چالیس درہم میں ان دونوں کو خرید لیا اور عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا اور کہا: اے امیر المومنین! اللہ نے آپ کی قسم کو پورا کر دیا اور ثواب کو بڑھا دیا، بازار میں دودھ کی ایک مشک اور گھی کا ڈبہ آیا تھا ہم نے اسے چالیس درہم میں خرید لیا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے دونوں کو خرید کر حد سے تجاوز کیا ہے، ان دونوں کو صدقہ کر دو، مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ کسی چیز کے کھانے میں اسراف کروں اور کہا: مجھے رعایا کی حالت کیسے معلوم ہوسکتی ہے جب تک کہ میں بھی اس مصیبت سے نہ گزروں جس سے وہ گزر رہے ہیں۔ [3] یہ ہے اس قحط سالی کے موقع پر آپ کا موقف، جسے ’’عام الرمادۃ‘‘ کہا جاتا ہے۔ مہنگائی کے ایام میں بھی آپ کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی، لوگ ایک سال مہنگائی کے دور سے گزرے، [1] الطبقات الکبرٰی، ابن سعد: ۳/ ۲۹۳، ۲۹۴ [2] وسطیۃ أہل السنۃ بین الفرق، محمد باکریم، ص: ۱۷۰ [3] السیاسۃ الشرعیۃ، ص:۱۰