کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 170
کے تابع نہ تھا۔ [1] بسا اوقات عمر رضی اللہ عنہ کسی چیز کے بارے میں اجتہاد کرتے اور اپنی رائے ظاہر کرتے، لیکن کوئی کمزور ترین فرد آتا اور قوی دلیل کی روشنی میں صحیح طریقہ بتاتا، تو آپ اسے قبول کرلیتے اور اپنی رائے کی غلطی سے رجوع کرکے صحیح رائے اختیار کر لیتے۔ [2] سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں شورائیت کا دائرہ وسیع ہوگیا تھا، کیونکہ نئے نئے مسائل اور واقعات وحوادث بکثرت رونما ہوتے تھے اور اسلام کا دائرہ ان شہروں تک پھیل گیا تھا جہاں تہذیبیں مختلف تھیں، رسم ورواج میں فرق اور نظام زندگی میں تباین تھا اور انہی اسباب کی بنا پر ایسی جدید مشکلات پیدا ہوئیں جن میں دقیق ووسیع اجتہاد کی ضرورت پیش آئی۔ مثال کے طور پر مفتوحہ زمین کی تقسیم اور نئے قواعد کے مطابق وظائف کو منظم کرنے کا معاملہ تاکہ مفتوحہ علاقوں کی آمدنی ملکی ضروریات پر خرچ ہو۔ اسی لیے عمر رضی اللہ عنہ کبار صحابہ کی کثیر تعداد کو مشورہ کے لیے جمع کرتے تھے۔ [3] اور بدر میں شریک ہونے والے بزرگ صحابہ کے علم وفضل اور اسلام میں ان کی سبقت کے پیش نظر اہل شوریٰ میں ان کو خاص مقام دیتے تھے۔ تاہم آپ ان کے ساتھ نوجوان صحابہ کو شریک رکھتے تھے کیونکہ وہ (بزرگ صحابہ) اپنی زندگی کے آخری دور سے گزر رہے تھے اپنے ربّ کی رحمت اور مغفرت کی طرف قدم بڑھا رہے تھے۔ جب کہ ملک کو ہمہ وقت نوعمر اور بہادر افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ کی ذات ایک نابغہ روزگار اور دور اندیش ذات تھی، آپ نے اس حقیقت کو اچھی طرح بھانپ لیا اور امت کے ان نوجوان افراد کو منتخب کرنے لگے جو علم، ورع اور تقویٰ کے اعتبار سے کامل ہوں۔ چنانچہ اس سلسلہ میں سب سے پہلے آپ کی نگاہ انتخاب عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما پر پڑی اور برابر صلاح ومشورہ کے ذریعہ سے ایسے افراد کی تلاش میں لگے رہے اور فیصلۂ انتخاب کے لیے قرآنِ مجید کو کسوٹی بنایا، یہاں تک کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ’’عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس مشاورت کے شرکاء حفاظ قرآن تھے، خواہ وہ بوڑھے ہوں یا نوجوان۔‘‘ [4] زہری رحمہ اللہ نے نو عمر لڑکوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’اپنی نوعمری کی وجہ سے خود کو حقیر نہ سمجھو، عمر رضی اللہ عنہ پر جب کوئی کٹھن مرحلہ پیش آتا تھا تو نوجوانوں کو بلاتے اور ان سے مشورہ لیتے تھے اور آپ کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ ان کا ذہن تیز ہوجائے۔‘‘ [5] محمد بن سیرین کا بیان ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ بیشتر معاملات میں مشورہ لیتے تھے، یہاں تک کہ عورتوں سے بھی مشورہ [1] سیر أعلام النبلاء: ۱/ ۳۱۷ [2] نہایۃ الأرب: ۶/ ۱۶۹ [3] الإدارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الإسلامیۃ: ۱/ ۲۷۴ [4] الإصابۃ: ۲/ ۴۹۱ [5] الإدارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الإسلامیۃ: ۱/ ۲۷۵