کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 167
اور ناجائز مقام پر خرچ کیا تو آپ بادشاہ ہیں خلیفہ نہیں۔ یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ روپڑے۔ [1] شورائیت: اسلامی حکومت وسلطنت کے بنیادی اصولوں میں یہ چیز داخل ہے کہ رہنمایانِ ملک، حکام مسلمانوں سے مشورہ لیں، ان کی رائے ورضا مندی کو تسلیم کریں اور نظام حکومت کو شورائیت کی بنیادوں پر قائم کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ (آل عمران:۱۵۹) ’’پس اللہ کی طرف سے بڑی رحمت ہی کی وجہ سے آپ ان کے لیے نرم ہو گئے ہیں اور اگر آپ بد خلق، سخت دل ہوتے تو یقینا وہ آپ کے گرد سے منتشر ہو جاتے، سو ان سے در گزر کیجیے اور ان کے لیے بخشش کی دعا کیجیے اور کام میں ان سے مشورہ کیجیے، پھر جب آپ پختہ ارادہ کر لیں تو اللہ پر بھروسا کریں، بے شک اللہ بھروسا کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ ‘‘ اور ایک مقام پر فرمایا: وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ (الشوری:۳۸) ’’اور وہ لوگ جنھوں نے اپنے رب کا حکم مانا اور نما ز قائم کی اور ان کا کام آپس میں مشورہ کرنا ہے اور ہم نے انھیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کے باہمی مشورہ کو اقامت نماز کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ شورائیت کا حکم نماز کے حکم کی طرح ہے اور چونکہ نماز کا حکم شرعاً فرض ہے، لہٰذا اسی طرح شورائیت کا حکم بھی شرعاً فرض ہے۔ [2] چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی حکومت کی اساس شورائیت ہی پر رکھی تھی۔ مسلمانوں سے صرف نظر کرکے خود کو کسی معاملے میں ترجیح نہ دیتے تھے اور نہ کسی معاملے میں ان پر اپنا کوئی حکم مسلط کرتے تھے۔ جب کوئی نیا معاملہ پیش آتاتو اس کے بارے میں اس وقت تک کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں لیتے تھے جب تک کہ مسلمانوں کو جمع کر کے ان سے صلاح ومشورہ نہ لے لیتے۔ [1] الخلافۃ والخلفاء الراشدون، ص: ۱۶۰ [2] جولۃ تاریخیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین، د/ محمد السید الوکیل، ص:۸۹ [3] الحضارۃ الإسلامیۃ، د/ محمد عادل، ص: ۳۰ [4] الشیخان أبوبکر الصدیق وعمر بن الخطاب، بروایت بلاذری، ص: ۲۵۷