کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 164
امت مسلمہ کی بہترین تصویر کشی کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ امت سامع ومطیع تھی، جو حکم ملتا تو پابندی کرتی اور جب کسی کام سے روکا جاتا تو فوراً رک جاتی۔ ساتھ ہی یہ عظیم ذمہ داری اس کے قائد پر بھی عائد ہوتی ہے کہ امت کی قیادت میں بڑی توجہ اور دانائی سے کام لے تاکہ نہ تو اسے خطرات میں ڈال دے اور نہ ہی ہلاکت میں غرق کردے۔ اس کے کسی معاملہ کو غرور میں آکر یونہی نظر انداز نہ کر دے۔ آپ نے خطبہ میں ’’راستہ‘‘ سے وہ سیدھا راستہ مراد لیا ہے جس میں کوئی کجی نہیں ہے، اور اس طرح جو قسم کھائی تھی اسے آپ نے پورا بھی کیا۔ [1] ۹: تند مزاجی، سخت گیری اور نرمی کے بارے میں سنت الٰہی: لوگوں کے حالات، ان کی اجتماعی زندگی، کسی شخص کو چاہنے اور اس پر اتفاق کرنے، اس کی بات ماننے اور اس سے محبت کرنے کے بارے میں اللہ کی ہمیشہ یہ سنت رہی ہے کہ تند مزاج اور سخت دل انسان سے لوگ دور بھاگتے رہے ہیں، اگرچہ وہ ناصح اور لوگوں کے لیے خیر خواہ اور فائدہ مند ہی کیوں نہ ہو۔ [2] اور اس حقیقت پر قرآن بھی شاہد ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے: فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ (آل عمران:۱۵۹) ’’پس اللہ کی طرف سے بڑی رحمت ہی کی وجہ سے تو ان کے لیے نرم ہوگیا ہے اور اگر تو بد خلق، سخت دل ہوتا تو یقینا وہ تیرے گرد سے منتشر ہو جاتے، سو ان سے در گزر کر اور ان کے لیے بخشش کی دعا کر اور کام میں ان سے مشورہ کر۔‘‘ چنانچہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ جب منصب خلافت پر سرفراز ہوئے تو آپ نے یہ دعا کی: ’’اے اللہ میں سخت ہوں مجھے نرم کردے‘‘ اور اللہ نے آپ کی یہ دعا قبول فرمائی، پھر عمر رضی اللہ عنہ کا دل شفقت، نرمی اور مہربانی سے معمور ہوگیا اور یہ چیزیں آپ کی خاص صفت بن گئیں۔ لوگوں نے عمر رضی اللہ عنہ کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں سخت مزاج انسان کی حیثیت سے پہچانا تھا اور تاریخ نے بھی ہمارے سامنے یہی تصویر کشی کی ہے کہ آپ کی ذات وہ منفرد ہستی تھی جس نے اسلام قبول کرنے سے لے کر خلافت کا منصب سنبھالنے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو بہ پہلو سختی اور قوت کا مظاہرہ کیا، یہاں تک کہ جب معاملہ (خلافت) آپ کے سر آگیا تو وہ سختی، نرمی، آسانی اور رحمت میں تبدیل ہوگئی۔[3] ۱۰: خلفائے راشدین کی سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے حق میں عمومی بیعت مدینہ والوں تک محدود تھی، کبھی کبھار اس بیعت میں ایسے بدوی اور دیگر قبائل کے لوگ شریک ہوجاتے جو مدینہ کے اردگرد ہوتے یا [1] الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین، ص: ۱۲۱ ۔ محض الصواب: ۱/ ۳۸۵ [2] الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین، ص: ۱۲۱ [3] الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین، ص: ۱۲۲ [4] الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین، ص: ۱۲۲