کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 163
رحمت ومہربانی سے نوازا جائے گا۔ آپ نے سچ کہا کہ ’’میں اپنا چہرہ شرفاء کے لیے زمین پر رکھتا ہوں۔‘‘ [1] اپنی رعایا کے ساتھ عمر رضی اللہ عنہ کا عدل وانصاف کیسا تھا؟ یہ بات ان شاء اللہ نظام عدل سے متعلق آپ کے مواقف اور اس پر آپ کے خصوصی اہتمام کے تحت ذکر کی جائے گی، جس سے معلوم ہوگا کہ ملک کے تمام صوبوں میں عدل وانصاف کا کس قدر بول بالا تھا۔ ۴: خلیفۃ المسلمین نے اس بات کی ذمہ داری قبول کی کہ امت مسلمہ کی جان و اموال اور ان کے دین کا مکمل دفاع کرے گا، سرحدوں کی حفاظت کرے گا اور خطرات کو پیچھے دھکیلے گا، لیکن یہ بات ملحوظ رہے کہ مجاہدین اسلام پر ظلم نہ ہو، سرحد کی اس حد تک انہیں جانے پر مجبور نہ کرے گا کہ جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے، اور اگر وہ لشکر میں نظر نہ آئیں (یعنی شہید کر دیے جائیں) تو خلیفہ اور اس کے اداری ذمہ داران وارکان ان کے بچوں اور خاندانوں کی کفالت کریں گے۔ [2] عمر رضی اللہ عنہ نے عسکری ادارے کو ترقی دی اور اپنے دور میں وہ ایسا زبردست فوجی ادارہ بنا کہ پوری دنیا میں اس کی کوئی مثال نہ تھی۔ ۵: خلیفہ نے پوری رعایا کے لیے خراج اور فے وغیرہ سے مالی حقوق کی ادائیگی کا عہد کیا کہ وہ اس میں سے کچھ روک کر نہ رکھے گا، وہ اسے ناجائز مقام پر خرچ نہ کرے گا، بلکہ مسلسل جہاد، غزوات اور محنت کی کمائی پر رغبت دلا کر نیز ملکی آمدنی کی بروقت وصولی کے ذریعہ سے ان کے وظائف اور عطیات میں اضافہ کرے گا۔ [3] سچ تو یہ ہے کہ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مالی محکمہ اور ملکی خزانہ کو بہت ترقی دی، بیت المال کی آمدنی کے ذرائع اور ملکی مفاد میں اس کے مصارف کو نہایت منظم کیا۔ ۶: خلیفہ کے حقوق جو رعایا سے متعلقہ ہیں ان میں یہ بھی شامل ہے کہ اپنے خلیفہ کے لیے خیر خواہی اور اس کی سمع وطاعت کی ذمہ داری بہترین طریقے سے نبھائے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام کرے جس سے سماج میں اسلامی ذہنیت کی نشوونما ہو۔ ۷: آپ نے خطبہ میں اس بات کی طرف آگاہ کیا کہ اس ذمہ داری کی ادائیگی میں اللہ سے تقویٰ، نفس کا محاسبہ اور آخرت میں جواب دہی کے احساس کے علاوہ کوئی دوسری چیز معاون نہیں ہوسکتی۔[4] ۸: شیخ عبدالوہاب النجار نے فرمان عمر رضی اللہ عنہ ’’عربوں کی مثال نکیل زدہ اونٹ جیسی ہے‘‘ پر تعلیق چڑھاتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’اَلْجَمَلُ الْآنِفُ‘‘ اس اونٹ کو کہتے ہیں جو مالک کے تابع ہوتا ہے، ڈانٹ اور مارپڑتے ہی اپنی پوری طاقت سے چلنے لگتا ہے۔ آپ نے اس مثال کے ذریعہ سے اپنے زمانے کی [1] الإدارۃ العسکریۃ فی عہد الفاروق، ص: ۱۰۶ [2] السیاسیۃ الشرعیۃ، د/ اسماعیل بدوی، ص: ۱۶۰۔ نقلاً عن الطبری [3] الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین، ص: ۱۲۱