کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 158
آپ کو جنت کی خوشخبری ہے، آپ اس وقت اسلام لائے جب لوگوں نے کفر کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر اس وقت جہاد کیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں نے رُسوا کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اس حال میں ہوئی کہ وہ آپ سے خوش تھے، آپ کی مدت خلافت کے بارے میں کبھی دو آدمیوں نے بھی اختلاف نہیں کیا اور شہادت کا درجہ پا کر شہید کیے گئے۔ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دوبارہ کہو۔ میں نے اپنی بات دہرائی، تو آپ نے فرمایا: قسم ہے اس اللہ کی جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اگر زمین کا تمام سونا اور چاندی مل جائے تاکہ آخرت کی ہولناکی سے نجات پاجاؤں تو سب کچھ فدیہ دے دوں ( کس کو خبر ہے کہ کیا ہونے والا ہے؟)‘‘ [1] * خلافت فاروقی پر اجماع نقل کرتے ہوئے ابونعیم اصفہانی فرماتے ہیں: ’’جب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت، خیر خواہی، خلافت کو سنبھالنے کی قوت اور اپنے دور خلافت میں مشکل اوقات میں ان کی مکمل تائید ومدد کو جان لیا تو اللہ اور اس کے بندوں کی خیرخواہی کے تقاضوں کے پیش نظر آپ کے سامنے اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ تھا کہ آپ کو منصب خلافت کے کے لیے منتخب کریں اور چونکہ صحابہرضی اللہ عنہم کے بارے میں آپ جانتے تھے کہ وہ بھی ہماری رائے سے متفق ہیں اور اس پر انہیں کوئی اعتراض واشکال نہیں ہے، اور اسی حسن ظن کی بنا پر آپ نے انہیں انتخاب کا اختیار بھی دیا، لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کی بات پر مطمئن رہے اور انتخابی مسئلہ آپ ہی کے ذمہ کر دیا، پس اگر انہیں آپ کی بات یا رائے سے معمولی اختلاف یا شک وشبہ ہوتا تو وہ انکار کر دیتے اور جس اہم معاملے یعنی خلافت میں شرعاً سب سے اتفاق رائے مطلوب تھا اس میں عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اس طرح متفق نہ ہوتے جس طرح ابوبکر رضی اللہ عنہ پر متفق ہوگئے تھے۔ درحقیقت آپ کی امامت وخلافت بالکل اسی طرح ثابت اور صحیح ہے جس طرح ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت ثابت اور صحیح تھی۔ آپ یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے لیے افضل اور کامل شخصیت کو منتخب کرنے کے لیے بحیثیت دلیل اور رہنما کے تھے، لہٰذا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے راضی برضا ہو کر آپ کی پیروی کی۔‘‘ [2] * خلافت صدیقی سے متعلق اجماع صحابہ کے ذکر کے بعد ابوعثمان صابونی فرماتے ہیں: ’’پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے عمر کو خلیفہ نامزد کر دینے اور صحابہ کے اس پر اجماع سے عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت عمل میں آئی اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے اسلام کی سربلندی اور عظمت وشان سے متعلق اپنا وعدہ مکمل فرمایا۔‘‘ [3] * امام نووی رحمہ اللہ نے عمر رضی اللہ عنہ کے حق میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد نامۂ خلافت پر اجماع صحابہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا [1] الطبقات الکبریٰ: ۳/ ۲۷۴ [2] صحیح البخاری، کتاب الصحابۃ، حدیث نمبر: ۳۶۷۱ [3] عقیدۃ أہل السنۃ والجماعۃ فی الصحابۃ الکرام: ۲/ ۶۴۰ [4] لوامع الانوار البہیۃ: ۲/ ۳۲۶