کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 157
اس کے لیے اپنے سب سے افضل اور سب سے بہتر ہی کو آگے بڑھائیں گے اور پھر عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ابوبکر اور علی رضی اللہ عنہما کی رائے بھی بہتری کی ہو۔ چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کے بارے میں فرمایا تھا: ’’اے اللہ میں نے ان (مسلمانوں) پر تیرے بندوں میں سب سے بہتر فرد کو حاکم بنایا ہے۔‘‘ [1] اور آپ کے بارے میں سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول ہے جسے امام بخاری رحمہ اللہ نے محمد بن حنفیہ سے روایت کیا ہے، جو علی بن ابی طالب کے لڑکے ہیں، ان کا بیان ہے کہ ’’میں نے اپنے والد سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ابوبکر۔ میں نے کہا: پھر کون؟ انہوں نے جواب دیا: عمر۔ مجھے خوف تھا کہ آپ کہیں عثمان کا نام نہ لے لیں۔ میں نے کہا: پھر آپ؟ انہوں نے جواب دیا: میں تو عام مسلمانوں کا ایک فرد ہوں۔‘‘ [2] خلاصہ یہ کہ مذکورہ تمام احادیث جن کو میں نے ذکر کیا ہے سب اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ خلافت کے زیادہ حق دار تھے۔ [3] علامہ سفارینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’معلوم ہونا چاہیے کہ عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے استحقاق خلافت کا لازمہ ہے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مستحق خلافت ہونے پر اجماع اور کتاب وسنت کے اشارات موجودہیں، لہٰذا اصل یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مستحق خلافت ہونے میں جو چیز ثابت ہے وہ اس کی فرع یعنی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے لیے ثابت ہوگی، اس لیے گمراہ فرقوں میں سے کسی کو عمر رضی اللہ عنہ کے مستحق خلافت ہونے میں طعن وتشنیع کرنے کا کوئی حق نہیں اور اہل علم کو یقینی طور سے یہ چیز معلوم ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا خلافت صدیقی پر اجماع ہے، اور اس اجماع صحابہ سے شذوذ اختیار کرنا اس سلسلہ (خلافت)میں ضرر رساں نہیں ہوسکتا۔‘‘ [4] خلافت فاروقی ( رضی اللہ عنہ ) پر اجماع صحابہ: مستند ومعتبر علماء کی جماعت نے سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی صحت اور استحقاق پر صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع نقل کیا ہے، جن میں بعض یہ ہیں: * ابوبکر احمد بن حسین بیہقی نے اپنی سند کے حوالے سے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: ’’میں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اس وقت گیا جب آپ کو خنجر مارا گیا تھا، میں نے کہا: اے امیر المومنین! [1] صحیح مسلم: ۴/ ۱۷۷۷، ۱۷۷۸ [2] عقیدۃ أہل السنۃ والجماعۃ فی الصحابۃ الکرام: ۲/ ۶۳۸ [3] المستدرک: ۳/ ۸۲۔ رقم الحدیث: ۴۴۶۰۔ یہ حدیث سنداً صحیح ہے اور ذہبی نے اس کی موافقت کی ہے۔ [4] عقیدۃ أہل السنۃ والجماعۃ: ۲/ ۶۳۹