کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 152
’’بدؤوں میں سے پیچھے چھوڑے جانے والوں سے کہہ دے عنقریب تم ایک سخت لڑنے والی قوم کی طرف بلائے جاؤ گے، تم ان سے لڑو گے، یا وہ مسلمان ہو جائیں گے، پھر اگر تم حکم مانو گے تو اللہ تمھیں اچھا اجر دے گا اور اگر پھر جاؤ گے، جیسے تم اس سے پہلے پھر گئے تو وہ تمھیں سزا دے گا، درد ناک سزا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں خبر دی ہے کہ پیچھے رہنے والوں کو جنگجو قوم سے جنگ کرنے کے لیے ، جس میں ان سے لڑائی ہوگی یا وہ مسلمان ہوجائیں گے ، نبی کے علاوہ دوسرا شخص بلائے گا اور اس شخص کی دعوت پر اطاعت کرنے والوں سے اللہ نے بڑے اجر و ثواب کا وعدہ کیا اور اس کی نافرمانی کرنے والوں کے لیے دردناک عذاب کی دھمکی دی۔ [1] ابومحمد بن حزم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان بدؤوں کو جنگجو قوم سے قتال کرنے یا انہیں مسلمان بنانے کی طرف سیّدنا ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے علاوہ کسی دوسرے نے دعوت نہ دی۔ چنانچہ مرتدین عرب مثلاً بنو حنیفہ، طلیحہ، سجاح اور اسود عنسی کے پیروکاروں اور روم وفارس کے لوگوں سے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں بلایا، خاص طور پر روم اور فارس والوں سے قتال کے لیے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں تیار کیا، مزید برآں عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی انہیں روم، فارس اور ترک والوں سے لڑنے کی دعوت دی۔ [2] لہٰذا مذکورہ قرآنی صراحت کے پیش نظر سیّدنا ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کی اطاعت لازمی ہے اور جب ان کی اطاعت لازم ہے تو ان کی امامت وخلافت بھی صحیح ہے۔ رضی اللہ عنہم اجمعین [3] * رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( رَأَیْتُ کَأَنِّیْ أَنْزِعُ بِدَلْوٍ بَکْرَۃٍ عَلٰی قَلِیْبٍ فَجَائَ أَبُوْبَکْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوْبًا أَوْذَنُوْبَیْنِ فَنَزَعَ نَزْعًا ضَعِیْفًا وَاللّٰہُ یَغْفِرْلَہُ، ثُمَّ جۃاجَ عُمَرُ فَاسْتَسْقٰی فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَلَمْ أَْرَعَبْقَرِیًّا یَفْرِیْ فَرْیَہٗ حَتّٰی رَوِیَ النَّاسُ وَضَرَبُوْا الْعَطَنَ۔)) [4] ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک کنویں پر، اس سے (پانی کا) ڈول کھینچ رہا ہوں، پھر ابوبکر آئے اور انہوں نے کمزوری سے ایک یا دو ڈول کھینچے، اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ پھر عمر آئے انہوں نے کھینچا تو وہ ڈول بڑے ڈول میں بدل گیا، میں نے آپ جیسا شہ زور پہلوان نہیں دیکھا جو آپ جیسا زور آور ہو، یہاں تک کہ لوگ سیراب ہوگئے اور اونٹوں کو خوب پانی پلایا (انہیں آرام کی جگہ میں بٹھایا)۔‘‘ [1] الدر المنثور فی التفسیر المأثور، السیوطی: ۴/ ۱۱۹، ۱۲۲ ۔