کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 151
استحقاق خلافت پر شرعی نصوص کے واضح اشارے: * قرآنِ مجید میں سیّدنا ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کی خلافت کے صحیح ہونے اور ان کی اطاعت کے وجوب پر واضح دلیل موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اعراب (بدویوں) کے بارے میں اپنے نبی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: فَإِنْ رَجَعَكَ اللّٰهُ إِلَى طَائِفَةٍ مِنْهُمْ فَاسْتَأْذَنُوكَ لِلْخُرُوجِ فَقُلْ لَنْ تَخْرُجُوا مَعِيَ أَبَدًا وَلَنْ تُقَاتِلُوا مَعِيَ عَدُوًّا (التوبۃ:۸۳) ’’پس اگر اللہ تجھے ان میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لے آئے، پھر وہ تجھ سے (جنگ کے لیے) نکلنے کی اجازت طلب کریں تو کہہ دے تم میرے ساتھ کبھی نہیں نکلو گے اور میرے ساتھ مل کر کبھی کسی دشمن سے نہیں لڑو گے۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ سورۂ ’’براء ۃ‘‘ جس میں یہ حکم کا نزول ہوا ہے وہ غزوۂ تبوک کے بعد نازل ہوئی،[1] اس سورۃ میں ایسے تین افراد کا تذکرہ ہے جو اس غزوہ میں شریک ہونے سے پیچھے رہ گئے تھے جن کی معذرت قبول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی، اس غزوۂ تبوک کے بعد اپنی وفات تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی لڑائی میں حصہ نہیں لیا۔ مزید اللہ تعالیٰ نے فرمایا: سَيَقُولُ الْمُخَلَّفُونَ إِذَا انْطَلَقْتُمْ إِلَى مَغَانِمَ لِتَأْخُذُوهَا ذَرُونَا نَتَّبِعْكُمْ يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلَامَ اللّٰهِ قُلْ لَنْ تَتَّبِعُونَا كَذَلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ (الفتح:۱۵) ’’عنقریب پیچھے چھوڑ دیے جانے والے لوگ کہیں گے جب تم کچھ غنیمتوں کی طرف چلو گے، تا کہ انھیں لے لو ،ہمیں چھوڑو کہ ہم تمھارے ساتھ چلیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے کلام کو بدل دیں۔ کہہ دے تم ہمارے ساتھ کبھی نہیں جاؤ گے، اسی طرح اللہ نے پہلے سے کہہ دیا ہے۔ ‘‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح اشارہ موجود ہے کہ غزوۂ تبوک کے بعد اہل عرب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ نہیں کریں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کرنے کی ممانعت کے پیچھے ہی فرمایا: قُلْ لِلْمُخَلَّفِينَ مِنَ الْأَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ إِلَى قَوْمٍ أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ فَإِنْ تُطِيعُوا يُؤْتِكُمُ اللّٰهُ أَجْرًا حَسَنًا وَإِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّيْتُمْ مِنْ قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا (الفتح:۱۶) [1] تاریخ الطبری: ۴/ ۲۴۸ [2] القیود الواردۃ علی سلطۃ الدولۃ فی الإسلام، ص:۱۷۲ [3] أبوبکر الصدیق، علی الطنطاوی، ص: ۲۳۷ [4] دراسات فی عہد النبوۃ والخلافۃ الراشدۃ، ص: ۲۷۲ [5] دراسات فی عہد النبوۃ والخلافۃ الراشدۃ، ص: ۲۷۲