کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 147
(( فَوَ اللّٰہِ لَا الْفَقْرَ أَخْشٰی عَلَیْکُمْ وَلٰکِنْ أَخْشٰی عَلَیْکُمْ أَنْ تُبْسَطَ عَلَیْکُمُ الدُّنْیَا کَمَا بُسِطَتْ عَلٰی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ ، فَتَنَافَسُوْہَا کَمَا تَنَافَسُوْہَا وَتُہْلِکَکُمْ کَمَا أَہْلَکَتْہُمْ۔)) [1] ’’اللہ کی قسم! میں تمہارے بارے میں فقیری سے نہیں ڈرتا ہوں لیکن تمہارے بارے میں مجھے یہ خوف ہے کہ تم پر دنیا کشادہ کر دی جائے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کر دی گئی تھی اور تم اسے حاصل کرنے میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے لگو، جس طرح انہوں نے مقابلہ کیا، پھر دنیا تمہیں ہلاک کر دے جس طرح انہیں ہلاک کردیا۔‘‘ سیّدناابوبکر رضی اللہ عنہ نے امت کی بیماری کی بہترین تشخیص کرلی تھی، اس لیے آپ نے اُمت کے لیے بہترین اور کامیاب دوا کا انتظام کردیا۔ عمر رضی اللہ عنہ ایک بلند پہاڑ تھے کہ جب دنیا آپ کو دیکھتی تو مایوس ہوجاتی اور پیٹھ پھیر کر بھاگتی۔ یہ آپ کی شخصیت ہی تھی جس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (( إِیْہَا یَابْنَ الْخَطَّابِ! وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مَا لَقِیَکَ الشَّیْطَانُ سَالِکًا فَجًّا قَطُّ إِلَّا سَلَکَ فَجًّا غَیْرَ فَجِّکَ۔))[2] ’’بہت خوب اے ابن خطاب! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر شیطان راستہ چلتے تم سے مل جاتا ہے تو (راہ بدل کر) تمہارے راستہ کے علاوہ دوسرے راستہ پر چلنے لگتا ہے۔‘‘ یہ حقیقت ہے کہ یہ امت جن بڑے بڑے حوادث سے دوچار ہوئی ان کا ظہور عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ہوا، لہٰذا ان کمر توڑ حوادث کا بعد میں واقع ہونا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فراست، اور عمر رضی اللہ عنہ کے لیے تیارہ کردہ مجوزہ عہد نامہ کی سچائی پر ایک قوی دلیل بن سکتا ہے۔ جیسا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ تین آدمیوں میں کافی فراست پائی جاتی ہے: ۱: موسیٰ علیہ السلام کی صاحبزادی، جس نے کہا تھا: اس (آدمی) کو نوکر رکھ لیجیے، بے شک آپ کا بہترین مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔ ۲: عزیز مصر، جب اس نے اپنی بیوی سے یوسف علیہ السلام سے متعلق کہا: اس کو عزت واحترام سے رکھو، امید ہے کہ وہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے اپنا بیٹا بنالیں۔ ۳: ابوبکر رضی اللہ عنہ ، جب کہ آپ نے عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا۔ [3] [1] الکامل، ابن الأثیر: ۲/ ۷۹۔ التاریخ الإسلامی، محمود شاکر، ص: ۱۰۱ [2] الکامل، ابن الأثیر: ۲/۷۹۔ [3] تاریخ الإسلام، عہد الخلفاء، ذہبی، ص:۶۶۔۱۱۷، ابوبکر رجل الدولۃ، ص: ۹۹