کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 141
کہ دوسری جگہوں میں بھی کہیں حفاظ قرآن شہید ہوئے تو قرآن کریم کا بیشتر حصہ کہیں ضائع نہ ہو جائے ، لہٰذا میرے خیال میں آپ قرآن جمع کرنے کا حکم دیں۔ تو میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: میں وہ کام کیسے کروں جسے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا؟ عمر رضی اللہ عنہ نے یقین دلایا کہ اللہ کی قسم! یہ عمل بہت بہتر ہوگا اور برابر مجھ سے اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے میرے سینے کو بھی اس کام کے لیے کھول دیا جس کے لیے عمر کا سینہ کھولا تھا اور میری رائے بھی وہی ہوگئی جو عمر رضی اللہ عنہ کی تھی۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ایک نوجوان اور عقلمند آدمی ہو، ہمیں تم پر کوئی شک نہیں، تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب وحی تھے، لہٰذا قرآن کو ڈھونڈو اور اسے یکجا کرو۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اگر ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھے کسی پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا حکم دیتے تو وہ مجھ پر اتنا گراں نہ ہوتا جتنا قرآن کا جمع کرنا مجھ پر بھاری پڑا۔ [1] جمع قرآن کے اس واقعہ سے چند نتائج ہمارے سامنے آتے ہیں: ۱: مرتدین کے خلاف جنگ میں بہت سے حفاظ قرآن کی شہادت کو دیکھتے ہوئے قرآن ضائع ہوجانے کے خطرے اور اندیشے کے نتیجہ میں قرآن کریم کو یکجا کیا گیا، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس وقت حفاظ و علماء، اسلام اور مسلمانوں کی قوت، اپنے افکار وکردار اور تلوار کے ذریعہ سے بلند کرنے کے لیے عملی اور مجاہدانہ قدم اٹھانے میں جلدی کرتے تھے۔ اس طرح وہ امت مسلمہ کے چیدہ افراد میں سے تھے جو لوگوں کی اصلاح کے لیے پیدا کیے گئے تھے، بعد میں آنے والے ہر فرد کے لیے ان کی پیروی لائق تحسین ہے۔ ۲: مصلحت مرسلہ [2] کے پیش نظر قرآن کو یکجا کیا گیا، اس موقع پر عمر رضی اللہ عنہ کی ابوبکر رضی اللہ عنہ سے گفت وشنید کو میں دلیل نہیں بناتا جب کہ ابوبکر نے عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ہم کیسے وہ کام کریں جس کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا؟ تو عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اللہ کی قسم، یہ عمل بہتر ہے۔ اور بعض روایات میں ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: اللہ کی قسم یہ عمل بہت بہتر ہے اور اس میں مسلمانوں کی مصلحت ہے اور بالکل یہی جواب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت کو بھی اس وقت دیا جب انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسا سوال ان سے کیا تھا۔ بہرحال جس روایت میں ’’مصلحت‘‘ کا لفظ آیا ہے وہ صحیح ہو یا نہ ہو تاہم سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کی تعبیر میں ’’خیر‘‘ کا لفظ استعمال کرنا مصلحت ہی کا معنی دیتا ہے۔ اور جمع قرآن میں مسلمانوں کے لیے مصلحت ہے۔ چنانچہ شروع شروع [1] محض الصواب فی فضائل أمیر المومنین عمر بن الخطاب: ۱/ ۲۶۲ [2] استخلاف أبی بکر الصدیق، جمال عبدالہادی، ص: ۱۶۶۔ ۱۶۷ [3] استخلاف أبی بکر الصدیق، جمال عبدالہادی، ص: ۱۶۶۔ ۱۶۷ [4] حروب الردۃ وبناء الدولۃ الإسلامیۃ، أحمد سعید، ص: ۱۴۵