کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 139
ہمارے مقتولین نے جنگ لڑی اور اللہ کے راستہ میں شہید کردیے گئے اس کا اجر ان کو اللہ تعالیٰ دے گا، ان کی کوئی دیّت نہیں۔ پھر لوگوں نے عمر رضی اللہ عنہ کی بات کی موافقت کی۔ [1] ۲: ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف سے اقرع بن حابس اور عیینہ بن حصن کو جاگیر دیے جانے پر سیّدنا عمر کا اعتراض: عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: اے خلیفۂ رسول! ہمارے پاس بنجر زمین ہے اس میں سبزی وغیرہ کوئی فائدہ مند چیز نہیں پیدا ہوتی۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو ہمیں یہ زمین دے دیں تاکہ ہم اس میں کھیتی باڑی کریں شاید کہ اللہ تعالیٰ کچھ دنوں بعد اسے کارآمد بنا دے۔ سیّدناابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے اردگرد بیٹھے ہوئے لوگوں سے پوچھا کہ ان دونوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے اگر حقیقت میں زمین بنجر ہے اور اس سے فائدہ اٹھانا ممکن نہیں؟ لوگوں نے مشورہ دیا: ہماری رائے یہ ہے کہ ان دونوں کو مطلوبہ زمین دے دی جائے، ممکن ہے اللہ تعالیٰ اُسے بعد میں کارآمد بنا دے۔ آپ نے وہ (مطلوبہ) زمین ان دونوں کو دے دی اور اسے ان دونوں کے نام لکھ دیا اور عمر رضی اللہ عنہ کو اس پر گواہ بنانا چاہا۔ وہ اس وقت وہاں نہ تھے ۔ وہ دونوں عمر رضی اللہ عنہ کو گواہی کے لیے تلاش کرنے چلے گئے، اور آپ سے اس حالت میں ملے کہ آپ اپنے اونٹ کو تارکول لگا رہے تھے، انہوں نے کہا: اس دفتر میں جو لکھا ہے اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو گواہ بنانے کے لیے کہا ہے۔ ہم اسے پڑھ کر آپ کو سنا دیں یا آپ خود پڑھ لیں؟ آپ نے فرمایا: میں جس حالت میں ہوں تم دیکھ رہے ہو، اگر چاہو تو تم ہی پڑھ کر سنا دو اور اگر چاہو تو انتظار کرو یہاں تک کہ میں فارغ ہوجاؤں، پھر تمہارے سامنے پڑھتا ہوں۔ ان دونوں نے کہا: بلکہ ہم ہی پڑھتے ہیں، پھر انہوں نے پڑھ کر سنایا۔ جب آپ نے تحریر سنی تو وہ (تحریر) ان کے ہاتھوں سے لے لی اور اسے اپنے لب مبارک سے مٹا دیا۔ وہ دونوں ناراض ہوگئے اور آپؓ کے خلاف باتیں کرنے لگے۔ آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تمہاری دلجوئی کرتے تھے جب کہ اسلام کمزور تھا اور آج اللہ تعالیٰ نے اسلام کو معزز کر دیا ہے، جاؤ اور محنت کرو۔ اگر تم دونوں نے مراعات لیں تو اللہ تمہاری رعایت نہ کرے۔ وہ دونوں ناراض کی حالت میں سیّدناابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: ہم نہیں جانتے کہ آپ خلیفہ ہیں یا عمر! ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بلکہ وہی ہیں اگر وہ (خلیفہ بننا ) چاہتے۔ اتنے میں عمر رضی اللہ عنہ غصہ کی حالت میں آئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑے ہوگئے اور کہا: جو زمین جاگیر میں آپ نے ان دونوں کو دی ہے اس کے بارے میں بتایے کہ یہ خاص آپ کی زمین ہے یا تمام مسلمانوں کی؟ آپ نے جواب دیا تمام مسلمانوں کی زمین [1] کنز العمال: ۵/ ۶۲۰، حدیث نمبر: ۱۴۰۹۳ [2] القیود الواردۃ علی سلطۃ الدولۃ، عبداللّٰه الکیلانی، ص: ۱۶۹