کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 136
اس موقع پر انصار نے مطالبہ کیا کہ لشکر کا امیر ایسا شخص ہونا چاہیے جو اسامہ سے زیادہ عمر کا ہو اور اس موضوع پر صدیق رضی اللہ عنہ سے بات کرنے کے لیے انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: انصار امارت کے لیے اسامہ سے زیادہ عمر کا آدمی چاہتے ہیں۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، یہ سن کر آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور عمر رضی اللہ عنہ کی داڑھی پکڑ لی اور کہا: اے ابن خطاب! تمہاری ماں تم کو گم پائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو امیر بنایا اور تم مجھ سے کہتے ہو کہ اسے ہٹا دوں۔ [1] عمر رضی اللہ عنہ وہاں سے نکل کر لوگوں کے پاس گئے، انہوں نے پوچھا کہ آپ نے کیا کیا؟ آپ نے فرمایا: تمہاری مائیں تم کو گم پائیں، چلو، خلیفۂ رسول سے مجھے جو کچھ بھی سننا پڑا تمہاری وجہ سے۔ [2] عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور یمن سے معاذ رضی اللہ عنہ کی واپسی، ابومسلم خولانی رحمہ اللہ کے بارے میں آپ کی سچی فراست اور بحرین کے لیے ابان بن سعید رضی اللہ عنہ کی نامزدگی پر آپ کی رائے : ۱: عمر رضی اللہ عنہ اور یمن سے معاذ رضی اللہ عنہ کی واپسی: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ یمن میں ٹھہرے رہے، وہاں آپ کی اہم دعوتی کوششیں رہیں، اسی طرح مرتدین کے خلاف جہاد میں بھی آپ نے حصہ لیا، لیکن وفات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ مدینہ چلے آئے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اس آدمی کو بلایے اور اس کی ضرورت بھر کی چیزیں اس کے پاس رہنے دیجیے بقیہ لے لیجیے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بھیجا تھا تاکہ اس کی کمی پوری کردیں، اگر وہ خود مجھے کچھ نہیں دیتے تو میں ان سے لینے والا نہیں۔ جب عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ میری رائے سے متفق نہیں ہیں اور آپ اپنی رائے صحیح سمجھتے ہیں تو خود ہی معاذ کے پاس انہیں راضی کرنے کے لیے گئے۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری (ضرورت کی) کمی پوری کرنے کے لیے بھیجا تھا، میں کچھ بھی واپس نہیں دوں گا۔ دراصل عمر رضی اللہ عنہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس اس لیے نہیں گئے تھے کہ وہ معاذ پر ظلم کریں بلکہ وہ معاذ اور دوسرے مسلمانوں کے لیے خیر چاہتے تھے۔ اور دوسری طرف معاذ رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کی نصیحت کو ٹھکرا دیا اور عمر کو بتایا کہ وہ معاذ پر حاکم نہیں ہیں۔ لیکن عمر رضی اللہ عنہ بخوشی واپس لوٹ آئے اس لیے کہ آپ نصیحت کی ذمہ داری کو پورا کرچکے تھے۔ [1] صحیح البخاری، استتابۃ المرتدین والمعاندین، حدیث نمبر: ۶۹۲۴۔ [2] صحیح البخاری ، استنابۃ المرتدین والمعاندین وقتالہم: ۶۹۲۵۔ [3] الکامل، ابن الاثیر: ۲/ ۲۲۶۔