کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 134
انصار نے کہا: ہم ابوبکر سے آگے بڑھنے پر اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ [1] پھر آپ خود آگے بڑھے اور ابوبکر سے کہا: اپنا ہاتھ بڑھایئے، انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھایا، عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور پھر مہاجرین نے، پھر انصار نے بیعت کی۔[2] منگل کا دن تھا ، ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف لائے، ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تقریر سے پہلے عمر رضی اللہ عنہ نے وعظ کیا، اللہ کی حمد وثنا بیان کی اور فرمایا: ’’اے لوگو! میں نے تم سے کل ایک بات کہی تھی جو ہوگئی، نہ اسے قرآن میں پایا اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہنے کا مجھ سے وعدہ لیا تھا۔ لیکن میں خود سوچتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے معاملے کی کوئی تدبیر کریں گے اور ہم میں سب سے آخر میں اٹھائے جائیں گے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان وہ قرآن باقی رکھا ہے جس کے ذریعہ سے اس نے اپنے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو ہدایت دی۔ پس اگر تم اس کو مضبوطی سے پکڑتے ہو تو تم کو بھی اسی طرح ہدایت دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارا معاملہ تمہارے سب سے بہتر فرد، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص مصاحب اور یار غار یعنی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر ٹھہرا دیا ہے، لہٰذا اٹھو اور بیعت کرو۔‘‘ پھر سقیفہ والی بیعت کے بعد یہاں لوگوں نے آپ سے عام بیعت کی۔ [3] جناب عمر رضی اللہ عنہ برابر تائید کرتے اور تقویت دیتے رہے اور لوگوں کو سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت پر ابھارتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اختلاف وانتشار اور فتنہ سے بچا کر ایک امام پر متفق کردیا۔ درحقیقت اس اہم موقع پر لوگوں کو سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امامت پر متفق کرنے میں آپ نے جو کردار ادا کیا اور پُر از حکمت جو مؤقف اختیار کیا وہ بہت عظیم ہے اور آبِ زر سے لکھنے کے لائق ہے۔ [4] آپ ڈر رہے تھے کہ مسلمانوں کی اجتماعیت منتشر ہوجائے گی اور فتنوں کے شعلے بھڑک اٹھیں گے اس لیے آپ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بیعت کرکے ان شراروں کو بجھانے میں جلدی کی اور صحابہرضی اللہ عنہم کو بھی بیعت عامہ پر ابھارا، گویا آپ کا یہ عمل مسلمانوں کو اس بڑے حادثہ سے نجات دینے کا سبب بن گیا جو ان کو اپنی لپیٹ میں لے لینے والا تھا، اگر توفیق الٰہی کے بعد آپ کی دور اندیشی اور بالغ نظری نہ ہوتی۔ [5] [1] مسند أحمد: ۱/۲۱۳، علامہ احمد شاکر نے اس کی سند کی تصحیح کی ہے۔ [2] الحکمۃ فی الدعوۃ الی اللّٰه ، سعید القحطانی، ص:۲۲۶۔