کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 132
لکھ دیا تھا آپ اس سے گزر گئے، اب اس کے بعد آپ کو کبھی موت لاحق نہ ہوگی۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ نے چادر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر لوٹا دیا، باہر نکلے اور عمر رضی اللہ عنہ بولتے جا رہے تھے، تو کہا: اے عمر! ذرا ٹھہرو، خاموش ہوجاؤ! آپ نے خاموش ہونے سے انکار کیا، جب ابوبکر نے دیکھا کہ وہ چپ نہیں ہو رہے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور جب لوگوں نے آپ کی آواز سنی تو عمر کو چھوڑ دیا اور آپ کی طرف متوجہ ہوگئے۔ آپ نے اللہ کی حمد وثنا کی، پھر فرمایا: اے لوگو! جو محمد کی عبادت کرتا تھا (وہ جان لے کہ) محمد فوت ہو گئے اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا (وہ جان لے کہ) اللہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے، وہ کبھی نہیں مرے گا۔ پھر آپ نے اس آیت کریمہ کی تلاوت کی: وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللّٰهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللّٰهُ الشَّاكِرِينَ (آلِ عمران: ۱۴۴) ’’محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) صرف رسول ہیں، ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ کیا اگر ان کا انتقال ہوجائے یا شہید ہوجائیں تو تم (اسلام سے) اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟ اور جو کوئی پھر جائے اپنی ایڑیوں کے بل تو ہرگز وہ اللہ کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا، عنقریب اللہ تعالیٰ کا شکر گزاروں کو اچھا بدلہ دے گا۔‘‘ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم؛ گویا کہ لوگوں نے جانا ہی نہ تھا کہ یہ آیت نازل ہوچکی ہے یہاں تک کہ اس دن ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی تلاوت کی۔ لوگوں نے اس آیت کو ابوبکر سے سیکھا اور اب یہ ان کی زبانوں پر تھی۔ ابوہریرہ کا بیان ہے کہ: عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی، جب میں نے ابوبکر کو اس آیت کی تلاوت کرتے سنا تو قریب تھا کہ زمین پر گرجاؤں اور میں نے یقین کرلیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاچکے ہیں۔ [1]  [1] شرح النووی: ۱۱/۹۰، فصل الخطاب فی موافق الاصحاب، الغرسی، ص:۴۱ [2] اخبار عمر، ص:۴۶ [3] السیرۃ النبویۃ، ابن ابی شھبۃ: ۲/ ۵۹۴