کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 131
اور عمر رضی اللہ عنہ کے قول ’’ حَسْبُنَا کِتَابُ اللّٰہِ‘‘ میں دراصل ان لوگوں کی تردید ہے جنہوں نے آپ سے بحث کی تھی نہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی تردید۔ [1] علی طنطاوی رحمہ اللہ نے مذکورہ واقعہ پر حاشیہ لکھا ہے کہ میرے خیال میں عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لمبی صحبت کی وجہ سے چونکہ اس بات کے عادی ہوگئے تھے کہ آپ کے سامنے اپنی رائے ظاہر کردیتے اور جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے انہیں اس بات کی اجازت ہے اور آپ مزید خوش ہوتے ہیں اور پچھلے مباحث میں یہ بات گزر بھی چکی ہے کہ آپ صحبت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں رہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورے اور تجاویز پیش کرتے اور بعض امور کا مطالبہ کرتے اور بعض معاملات کا پوچھتے، پھر اگر وہ تجویز یا مطالبہ درست ہوتا تو آپ کو اس کی اجازت دے دیتے اور غلطیوں سے منع کردیتے۔ چنانچہ جب آپ نے فرمایا: (( اِئْتُوْنِیْ أَکْتُبَ لَکُمْ کِتَابًا۔))… ’’میرے پاس آؤ میں تمہارے لیے کچھ لکھ دوں‘‘ تو آپ نے اپنی عادت کے مطابق تجویز پیش کی کہ (بہتر ہوگا) صرف کتابِ الٰہی پر اکتفا کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خاموش رہے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کتاب لکھوانا ہی چاہتے تو عمر رضی اللہ عنہ کو خاموش کردیتے اور جو چاہتے کر گزرتے۔ [2] ۲۔ وفات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دن آپ کا موقف: جب لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ملی تو بڑا واویلا مچ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات مسلمانوں کے لیے اور خاص طور پر ابن خطاب کے لیے ایک بڑا صدمہ تھا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس صورت حال کی تفصیل ہمیں اس طرح بتاتے ہیں: ’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: کچھ منافق لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی، حالانکہ آپ مرے نہیں ہیں، وہ تو اپنے ربّ کے پاس گئے ہیں جیسے کہ موسیٰ بن عمران علیہ السلام گئے تھے۔ وہ اپنی قوم کی نگاہوں سے چالیس (۴۰) رات تک غائب تھے اور پھر واپس لوٹے جب کہ کہا جانے لگا تھا کہ وہ مرگئے۔ اللہ کی قسم اللہ کے رسول بھی اسی طرح واپس ہوں گے جس طرح موسیٰ علیہ السلام واپس آئے تھے اور ضرور ان لوگوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹیں گے جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مر گئے ہیں۔ [3] ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ مسجد نبوی کے دروازے پر آئے اور عمر رضی اللہ عنہ لوگوں سے بات کر رہے تھے … آپ (ابوبکر رضی اللہ عنہ ) کسی چیز کی طرف متوجہ نہ ہوئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، گھر کے ایک طرف آپ کے جسمِ اطہر پر چادر ڈالی ہوئی تھی، آپ آگے بڑھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو کھولا، پھر آپ کو بوسہ دیا، اور بولے: آپ پر میرے ماں باپ قربان، اللہ نے جس موت کو آپ پر [1] صحیح السیرۃ النبویۃ، ص:۷۵۰ بحوالہ شرح النووی علی صحیح مسلم: ۱۱/۹۰۔