کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 127
لِمَنْ ہٰذَا؟ فَقَالُوْا: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَذَکَرْتُ غَیْرتَہٗ فَوَلَّیْتُ مُدْبِرًا۔)) ’’میں سویا ہوا تھا میں نے خود کو جنت میں دیکھا، میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے ایک کونے میں وضو کر رہی ہے۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے؟ انہوں (فرشتوں) نے جواب دیا: عمر کا، پھر مجھے عمر کی غیرت یاد آگئی اور میں واپس لوٹ آیا۔‘‘ عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں آپ پر غیرت کھاؤں گا؟ [1] مذکورہ دونوں احادیث آپ کی فضیلت پر اس اعتبار سے بالکل واضح ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت میں آپ کا ایک محل دیکھنے کی بشارت دی اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے نزدیک آپ کے بلند مقام ہونے پر واضح دلیل ہے۔ [2] ۶: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ابوبکر صدیق کے بعد عمرؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہیں: عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ نے فرمایا: عائشہ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مردوں میں سے؟ آپ نے فرمایا: (( أَبُوْہَا۔)) ان کے باپ (ابوبکر رضی اللہ عنہ )۔ میں نے کہا: پھر کون؟ آپ نے فرمایا: (( ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ۔)) پھر عمر بن خطاب۔ پھر آپ نے دیگر افراد کو شمار کیا۔ [3] ۷۔ عمرفاروق رضی اللہ عنہ کو جنت کی بشارت: ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے باغات میں سے ایک باغ میں تھا، ایک آدمی آیا، اس نے دروازہ کھولنے کی اجازت مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( اِفْتَحْ لَہٗ وَبَشِّرْہٗ بِالْجَنَّۃِ۔))…’’کھول دو اور اسے جنت کی بشارت دے دو۔‘‘ میں نے اس کے لیے دروازہ کھول دیا، دیکھا تو وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے انہیں فرمان رسول کی بشارت دی، انہوں نے اللہ کی تعریف کی۔ پھر ایک آدمی آیا، اس نے دروازہ کھولنے کی اجازت مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( اِفْتَحْ لَہٗ وَبَشِّرْہٗ بِالْجَنَّۃِ۔))… ’’(دروازہ) کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت دے دو۔‘‘ میں نے ان کے لیے دروازہ کھولا، دیکھا تو وہ عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے انہیں فرمان رسول کی بشارت دی۔ انہوں نے اللہ کی تعریف کی۔ پھر ایک آدمی نے (دروازہ) کھولنے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( اِفْتَحْ لَہٗ وَبَشِّرْہٗ بِالْجَنَّۃِ عَلٰی بَلْوٰی تُصِیْبُہٗ۔))…، ’’ان کے لیے دروازہ کھول دو اور انہیں ان آزمائشوں پر جنت کی بشارت دے دو جو انہیں پہنچیں گی۔‘‘ دیکھا تو وہ عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے انہیں فرمانِ رسول کی بشارت دی انہوں نے اللہ کی [1] شرح النووی لصحیح مسلم: ۱۵/ ۱۶۱۔ ۱۶۲ [2] صحیح البخاری، حدیث نمبر: ۳۶۷۹، ۶۶۲۰۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۲۳۹۴