کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 116
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( خُذُہُ وَمَا جَائَ کَ مِنْ ہٰذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَیْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْہُ ، وَمَ لَا فَلَا تُتْبِعْہُ نَفْسَکَ۔))[1] ’’اسے لے لو اور اس طرح کا جو مال تمہیں ملے اسے لے لو بشرطیکہ تم نے اس کا لالچ نہ کیا ہو اور اسے مانگا نہ ہو۔ اور جو ایسا نہ ہو اس کے پیچھے جان مت کھپاؤ۔‘‘ ۱۴۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمر رضی اللہ عنہ کے لیے دعا فرمانا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کے جسم پر ایک سفید کپڑا دیکھا … اور ایک روایت میں ہے کہ قمیص دیکھی … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا یہ کپڑا نیا ہے یا دھلا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: دھلا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( اِلْبَسْ جَدِیْدًا وَعِشْ حَمِیْدًا وَمُتْ شَہِیْدًا۔)) [2] ’’نیا کپڑا پہنو، اور قابل تعریف زندگی گذارو، اور شہادت کی موت مرو۔‘‘ ۱۵۔ میں اس وقت کو جانتا ہوں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس (باغ) میں تشریف لے گئے تاکہ اس میں برکت کی دعا کریں: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد فوت ہو گئے اور ایک یہودی کا تیس (۳۰) وسق کھجور ان پر قرض باقی تھا۔ جابر رضی اللہ عنہ نے یہودی سے مہلت مانگی، لیکن اس نے مہلت دینے سے انکار کردیا۔ جابر رضی اللہ عنہ نے اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے یہودی سے سفارش کردیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہودی کے پاس آئے اور اس سے کہا کہ قرض کے عوض وہ ان کی کھجور کے پھلوں کو لے لے، لیکن اس نے انکار کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے باغ میں داخل ہوئے اور اس میں گھومے، پھر جابر سے فرمایا: (( جُدَّ لَہٗ ، فَأَوْفِ لَہٗ الَّذِیْ لَہُ۔)) ’’اس کا حصہ لگاؤ اور اس کا پورا (قرض) اسے دے دو۔‘‘ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے لوٹ آئے تو آپ نے اس کا حصہ لگایا اور اسے پورا تیس (۳۰) وسق دے دیا نیز سترہ (۱۷) وسق مزید کھجوریں بچ گئیں۔ جابر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واقعہ کی خبر دینے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عصر کی نماز پڑھتے ہوئے پایا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ کو کھجوریں بچ جانے کی خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] مسند أحمد، حدیث نمبر: ۱۷۵، الموسوعۃ الحدیثیۃ۔ اس کی سند صحیح ہے۔ [2] باپ، بیٹے دونوں صحابی ہیں ۔ مسور کی وفات ۶۴ھ میں ہوئی۔ [3] صحیح البخاری، فضائل القرآن، حدیث نمبر: ۴۷۵۴۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۸۱۸