کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 115
جب میں خوش خبری دینے گیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ مجھ سے پہلے حاضر ہیں اور اسے بشارت دے چکے ہیں۔ اللہ کی قسم ! جب کبھی میں نے ان سے کسی خیر میں مقابلہ کیا تو وہ اس میں مجھ سے آگے ہی رہے۔ [1] ۱۲۔ بدعت ایجاد کرنے سے آپ کا ڈرانا: مسور بن مخرمہ [2] اور عبدالرحمن بن عبدالقاری سے روایت ہے، ان دونوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام کو اس وقت سورۂ فرقان کی تلاوت کرتے ہوئے سنا جب آپ باحیات تھے۔ میں نے ان کی قراء ت کو سنا، وہ اسے کئی حروف (لہجوں) میں پڑھ رہے تھے۔ ان (لہجوں) میں ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں پڑھایا تھا۔ قریب تھا کہ نماز ہی میں ان پر چڑھ دوڑوں، لیکن انتظار کیا یہاں تک کہ انہوں نے سلام پھیر دیا۔ میں نے ان کا گریبان پکڑ لیا اور کہا: میں نے ابھی تم کو جو سورۃ پڑھتے سنا ہے اسے تم کو کس نے پڑھایا ہے؟ انہوں نے کہا: اس کو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا ہے۔ میں نے کہا: تم جھوٹ بولتے ہو، بے شک مجھے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے یہی سورۃ پڑھائی ہے جسے تم کو پڑھتے سنا ہے۔ میں انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کو سورۂ فرقان کی تلاوت ان حروف میں کرتے ہوئے سنا ہے جنہیں آپ نے مجھے نہیں پڑھایا ہے۔ حالانکہ آپ نے مجھے بھی سورۂ فرقان پڑھائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ہشام! اسے پڑھو۔ چنانچہ انہوں نے اسی قراء ت پر اسے پڑھا جس پر میں نے سنا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((ہٰکَذَا اُنْزِلَتْ۔))اسی طرح اس کا نزول ہوا ہے۔ پھر آپ نے کہا: اے عمر تم پڑھو! میں نے اس طرح پڑھا جس طرح آپ نے مجھے پڑھایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح اس کا نزول ہوا ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: (( إِنَّ الْقُرْاٰنَ أُنْزِلَ عَلٰی سَبْعَۃِ أَحْرُفٍ فَاْقرَئُ وْا مَا تَیَسَّرَ مِنْہُ۔)) [3] ’’بے شک قرآن سات حروف (لہجوں) پر نازل ہوا ہے، پس جو ان میں سے تمہیں میسر آئے پڑھو۔‘‘ ۱۳۔ تمہارے پاس جو مال آئے اسے قبول کرلو بشرطیکہ تم نے اسے مانگا نہ ہو اور نہ اس کی لالچ کی ہو: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطیات سے نوازتے اور میں آپ سے کہتا: آپ اسے اس شخص کو دے دیں جو مجھ سے زیادہ اس کا ضرورت مند ہو۔ ایک مرتبہ آپ نے مجھے کچھ مال دیا تو میں نے کہا: جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو اسے دے دیجیے۔ [1] صحیح البخاری، البیوع، حدیث نمبر: ۲۱۱۵۔ [2] صحیح البخاری، العلم، حدیث نمبر: ۱۳۱