کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 113
ہوئے اور عرض کی: مجھے زمین حاصل ہوئی ہے، اس سے بہتر مال مجھے کبھی نہیں ملا ، اس سلسلہ میں آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( إِنْ شِئْتَ جَسَسْتَ أَصْلَہَا وَتَصَدَّقْتَ بِہَا۔)) ’’اگر تم چاہو تو اس کے اصل (زمین) کو روک لو اور اس (پھل وغیرہ) کو صدقہ کردو۔‘‘ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو وقف کردیا اور فرمایا: اس کے اصل کو فروخت نہ کیا جائے گا، نہ ہبہ کیا جائے گا اور نہ اس کا وارث بنایا جائے گا، وہ فقراء، قرابت داروں، غلاموں کی آزادی اور اللہ کے راستہ میں مہمانوں اور مسافروں کے لیے ہے۔ جو اس کا نگراں ہو اس کا معروف طریقے سے اس میں سے کھانا یا اپنے دوست کو کھلانا جائز ہے بشرطیکہ اسے مال دار بنانا مقصود نہ ہو۔‘‘ [1] یہ ہے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا وہ شاندار مؤقف جس میں آپ کی فضیلت، بھلائی وخیر کے کاموں میں آگے بڑھ نکلنے کی شدید خواہش اور اخروی زندگی پر دنیا کی فانی زندگی کو قربان کردینے کی پوری کوشش نمایاں ہے۔ ۱۰۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے کو تحفہ نبوی : ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو ریشم کا ایک جوڑا پہنے دیکھا، آپ اس جوڑے کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اسے خرید لیں اور وفود کے استقبال کے وقت اسے پہن لیا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( إِنَّمَا یَلْبَسُ ہٰذہِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَہٗ فِی الْآخِرَۃِ۔))…’’ریشم کا کپڑا وہ پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں …‘‘ پھر کچھ وقت گزرنے کے بعد … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے پاس ایک جوڑا ہدیہ بھیجا، آپ اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: آپ نے مجھے یہ جوڑا بھیجا ہے، حالانکہ آپ نے اس جیسے جوڑے، یا تمیمی کے جوڑے کے بارے میں دوسری بات کہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اسے اس لیے بھیجا ہے تاکہ تم اس کے ذریعہ سے (بیچ کر) مال کمالو۔ آپ نے وہ جوڑا اپنے ایک بھائی کو دے دیا جو مکہ میں تھا اور اسلام نہیں لایا تھا۔ [2] ابن عمر رضی اللہ عنہما کو تحفہ نبوی پیش کیے جانے کی تفصیل یہ ہے، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، میں عمر رضی اللہ عنہ کے ایک جوان اور اڑیل اونٹ پر سوار تھا، وہ میرے اشارے کو نہ مانتا اور قوم سے آگے بڑھ جاتا، عمر رضی اللہ عنہ اسے ڈانٹتے اور پیچھے کردیتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر سے فرمایا: ’’بعنیہ‘‘ اسے مجھے فروخت کردو۔ آپ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آپ کا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] مسند أحمد: ۴/۴۱ حدیث نمبر: ۲۲۰۶ اس کی سند ضعیف ہے اور یہ روایت صحیح لغیرہ ہے۔ [2] مسند احمد، حدیث نمبر: ۲۸۱ اس کی سند صحیح ہے، اور شیخین کی شرط پر ہے۔ [3] صحیح البخاری، کتاب الوصایا، حدیث نمبر: ۲۷۶۴۔