کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 107
اور علم، ذکر، دعا، طہارت، نماز، جنائز، زکوٰۃ، صدقات، روزے، حج نیز نکاح، طلاق، نسب، فرائض، وصایا، معاشرت، معاملات، حدود، لباس، کھانے پینے، ذبائح اور اسی طرح اخلاق، زہد وتقویٰ، فضائل، قیامت، فتنے، خلافت، امارت اور قضاء وحکم وغیرہ میں پہلا مقام ہے۔ مختلف اسلامی علوم میں ان احادیث کا اپنا بلند مقام ہے، اور آج تک اسلامی علوم کی ترقی میں یہ احادیثپیش پیش ہیں۔ [1] لہٰذا اب ہم مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی تعلیمی، تربیتی اور معاشرتی زندگی سے متعلق آپ کے بعض موافقت ونظریات ذکر کریں گے۔ ۱۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوال کرنے والے کے بارے میں عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ایک مرتبہ وہ سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص سفید کپڑے میں ملبوس نہایت خوبصورت چہرے اور بالوں والا پیدل چل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، حاضرین نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا کہ ہم اسے پہچانتے نہیں اور یہ مسافر بھی نہیں ہے۔ پھر اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں آسکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ وہ آیا اور اپنے گھٹنوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں کے پاس اور اپنے دونوں ہاتھوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں رانوں پررکھا اور کہا: اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( شَہَادَۃُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ وَتُقِیْمُ الصَّلَاۃَ وَتُؤْتِی الزَّکَاۃَ وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ وَتَحُجُّ الْبَیْتَ۔)) ’’اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی حقیقی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں اور تم نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو۔‘‘ اس نے کہا: ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( أَںْ تُؤْمِنَ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہٖ وَالْجَنَّۃِ وَالنَّارِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْقَدْرِ کُلِّہٖ۔)) ’’یہ کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، جنت اور جہنم پر اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ اٹھائے جانے پر اور پوری تقدیر پر ایمان لاؤ۔‘‘ اس نے کہا: احسان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( أَنْ تَعْمَلَ لِلّٰہِ کَأَنَّکَ تَرَاہُ ، فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہٗ فَاِنَّہُ یَرَاکَ۔)) ’’تم اللہ کے لیے عمل (صالح) اس تصور سے کرو کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، پس اگر (یہ نہ ہو کہ) تم [1] صحیح مسلم، الایمان، حدیث نمبر: ۲۷ [2] صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۸۶۳، الاحسان فی تقریب صحیح ابن حبان: ۱۵/ ۳۰۰ [3] عمر بن الخطاب، د/ علی الخطیب، ص:۱۰۸ [4] تاریخ الخلفاء ، السیوطی، ص:۱۳۳ [5] عمر بن الخطاب، د/ علی الخطیب، ص: ۱۰۹ [6] دلیل الفالحین لطرق ریاض الصالحین: ۱/ ۴۰ [7] عمر بن الخطاب، د/ علی الخطیب، ص: ۱۰۹