کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 106
(( أَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَأَشْہَدُ أَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ لَا یَلْقَی اللّٰہَ بِہِمَا عَبْدٌ غَیْرَ شَاکٍ فَیُحجَبَ عَنِ الْجَنَّۃِ۔)) [1] ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ نہیں ہے کوئی بندہ جو اس بات کا اقرار کرتے ہوئے اللہ سے ملے کہ وہ اس (ملاقات)میں شک نہ کرتا ہو، تو اسے جنت میں جانے سے روک دیا جائے۔‘‘ یہ چند فاروقی مواقف ہیں جنہیں آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اختیار کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ غزوات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جو عبرت وموعظت اور دینی وفقہی مسائل پیش آئے انہیں آپ نے اچھی طرح سمجھا اور شریعت الٰہی کی روشنی میں لوگوں کی قیادت ورہنمائی کے لیے یہی چیز آپ کے لیے زادِ راہ بنی۔ مدنی زندگی میں آپ کے مواقف: سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کے بہت حریص تھے، جب مجلس نبوی میں شریک ہوتے تو اختتام مجلس تک وہاں سے نہ اٹھتے۔ مدینہ کے ابتدائی دور میں خطبہ کے دوران جب ایک تجارتی قافلہ غلہ لے کر آیا اور اکثر لوگ غلہ لینے کے لیے مسجد سے نکل پڑے تو آپ اس وقت ان چند لوگوں میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا اور مسجد سے باہر نہ نکلے۔ [2] آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروس ومواعظ کے حلقوں میں تازہ دم ہو کر بیٹھتے تھے، پیچیدہ مسائل کی وضاحت چاہتے، مفہوم پوچھتے اور خاص وعام تمام مسائل وحالات میں آپ سے سوالات کرتے رہتے۔ [3] اسی وجہ سے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پانچ سو انتالیس (۵۳۹) احادیث روایت کی ہیں۔ [4] اور ایک روایت کے مطابق پانچ سو سینتیس (۵۳۷) احادیث۔ [5] ان میں چھبیس (۲۶) احادیث کو امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے روایت کیا ہے۔ جب کہ انتالیس (۳۹) احادیث روایت کرنے میں امام بخاری رحمہ اللہ اور اکیس (۲۱) امام مسلم رحمہ اللہ منفرد ہیں۔ [6] اور بقیہ احادیث احادیث کی دوسری کتابوں میں ہیں۔ [7] آپ کو اللہ تعالیٰ نے ان احادیث کی روایت کرنے کی توفیق دی جن کا ایمان، اسلام، احسان، قضاء وقدر [1] صحیح التوثیق فی سیرۃ وحیاۃ الفاروق، ص: ۲۰۰ [2] محض الصواب فی فضائل امیر المومنین عمر بن الخطاب: ۲/ ۴۰۸ [3] صحیح البخاری: ۴۳۲۹۔ صحیح مسلم: ۱۱۸۰ [4] وادی القریٰ اور شام کے درمیان ایک مقام کا نام تبوک ہے۔