کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 102
سلوک کو دیکھتے ہوئے ان کی غلطی سے چشم پوشی کرلی اور آپ کی بات مان گئے۔ [1] جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مر الظہران پہنچے اور ابوسفیان کو اپنے بارے میں خطرہ لاحق ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی اللہ عنہ نے اسے مشورہ دیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے امان طلب کرلے، تو اس نے ایسا ہی کیا۔ چنانچہ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے کہا: اے ابوسفیان! تیری بربادی ہو، دیکھ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں موجود ہیں۔ ہائے! قریش کی بری صبح۔ اس نے کہا: تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں، پھر بچاؤ کا کیا طریقہ ہے؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم، اگر وہ تم کو گرفتار کرلیں گے تو یقینا تمہاری گردن مار دیں گے، اس خچر کے پیچھے سوار ہوجاؤ میں تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلتا ہوں اور تمہارے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے امان مانگ لوں گا۔ پھر وہ میرے پیچھے سوار ہوگیا اور اس کے دونوں ساتھی واپس ہوگئے۔ میں اس کو لے کر آیا، میں جب بھی کسی مسلمان کے الاؤ کے قریب سے گزرتا تو پوچھتے کہ یہ کون ہے؟ لیکن جب وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر کو دیکھتے اور میں اس پر سوار ہوتا تو کہتے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر پر آپ کے چچا ہیں یہاں تک کہ جب میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے الاؤ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا: یہ کون ہے؟ وہ میری طرف کھڑے ہوگئے اور جب خچر پر پیچھے ابوسفیان کو دیکھا تو کہا: یہ ابوسفیان، اللہ کا دشمن! اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں بلا کسی عہد وارادہ کے تجھ پر قابو عطا کیا، پھر وہ تیزی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جانے لگا اور عمر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ابوسفیان ہے، بغیر ہمارے کسی عہد وارادہ کے اللہ نے اسے ہمارے قابو میں کر دیا ہے۔ مجھے اجازت دیجیے کہ اس کی گردن مار دوں۔ عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اسے پناہ دے دی ہے لیکن جب عمر رضی اللہ عنہ اپنی بات پر بضد رہے تو میں نے کہا: اے عمر! ذرا ٹھہرو، اللہ کی قسم اگر اس کا تعلق بنو عدی سے ہوتا تو تم ایسا نہ کہتے، تم ایسا اس لیے کہہ رہے ہو کہ جانتے ہو کہ یہ بنو عبد مناف کا ایک فرد ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے عباس ذرا ٹھہریے! اللہ کی قسم، جب آپ نے اسلام قبول کیا تھا اس دن اگر خطاب بھی اسلام لاتے تو آپ کا اسلام لانا میرے نزدیک زیادہ محبوب تھا، اور میری یہ پسندیدگی صرف اس وجہ سے تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک خطاب کے مسلمان ہونے کے مقابلے میں، اگر وہ اسلام لاتے، آپ کا اسلام لانا زیادہ محبوب تھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( اِذْہَبْ بِہٖ یَا عَبَّاسُ إِلٰی رَحْلِکَ فَإِذَا أَصْبَحْتَ فَأْتِنِیْ بِہٖ۔))[2] ’’اے عباس! اسے اپنے خیمے میں لے جاؤ جب صبح ہو تو انہیں لے کر آنا۔‘‘ یہ ہے فاروقی موقف؛ آپ دیکھ رہے ہیں کہ اللہ کا دشمن مسلمانوں کی فوج کے پاس سے ایسی حالت [1] صحیح البخاری/ المغازی، حدیث نمبر: ۴۲۷۴ [2] السیرۃ النبویۃ/ ابوفارس، ص: ۴۰۴