کتاب: سورۃ الفاتحہ فضیلت اور مقتدی کےلیے حکم - صفحہ 241
حدیث(رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے) مروی نہیں ہے،ان میں سے بعض تو ایسی ہیں کہ جن کی کوئی اصل ہی نہیں ہے،یا پھر وہ احادیث صحیح نہیں ہیں۔‘‘
’’السعایہ‘‘(۲؍۳۰۲) میں،ایسے ہی امام الکلام(ص:۲۸۲) میں لکھتے ہیں:
’’أَمَّا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم فَلَا یَثْبُتُ النَّہْیُ عَنْ ذٰلِکَ بِسَنَدٍ یُعْتَدُّ بِہٖ‘‘
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی معتمد و معتبر سند سے یہ ثابت نہیں ہے کہ امام کے پیچھے سورت فاتحہ نہ پڑھی جائے۔‘‘
اس حنفی محقق علامہ سید عبد الحی لکھنوی کے اس فیصلے پر ہی ہم اس موضوع کو ختم کر رہے ہیں:
اَللّٰہُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقّاً وَارْزُقْنَا إِتِّبَاعَہٗ وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلاً وَ ارْزُقْنَا إِجْتِنَابَہٗ۔آمین
والسلام علیکم و رحمۃ اﷲ و برکاتہ
ابو سلمان محمد منیر قمر نواب الدین
ترجمان سپریم کورٹ الخبر
و داعیہ متعاون بمراکز الدعوۃ و الارشاد
بالدمام و الظہران و الخبر سعودی عرب
Web:www.mohamme munirqamar.com