کتاب: سورۃ الفاتحہ فضیلت اور مقتدی کےلیے حکم - صفحہ 240
ہوتے،ایسے دلائل سے استدلال صحیح نہیں اور نہ وہ حجت و دلیل بن سکتے ہیں یا بالفاظِ دیگر دلائل کی تعداد کار گر نہیں،بلکہ دلائل کی صحت و قوت مطلو ب و درکار ہے۔
اس مسئلہ کے زیرِ بحث’’قراء تِ فاتحہ خلف الامام‘‘میں بھی دلائل تو دونوں طرف ہی ہیں،بلکہ فریقِ ثانی کے پاس تو فریقِ اول کی نسبت بظاہر زیادہ ہیں،خصوصاً جب قیاسی دلائل کو بھی شامل کرلیا جائے،لیکن سابقہ طویل گفتگو کو ذہن میں رکھ کر بآسانی اس نتیجہ پر پہنچا جاسکتا ہے کہ فریقِ اول کے دلائل کم ہیں یا زیادہ،لیکن صحیح و قوی ہیں اور فریقِ ثانی کے دلائل چاہے کتنے ہی زیادہ ہیں،لیکن کسی نہ کسی اعتبار سے متکلم فیہ ہیں۔اس انداز و معیار کو سامنے رکھ کر آپ تحقیق کریں گے تو فریقِ اول کے ساتھ اتفاق کریں گے کہ مقتدی کو بھی سورت فاتحہ پڑھنی ہی چاہیے۔
ماضی قریب کے ایک معروف حنفی محقق علامہ عبد الحی لکھنوی نے اپنی تحقیقات کا نچوڑ ذکر کرتے ہوئے’’التعلیق الممجد‘‘(ص:۹۹) میں لکھا ہے:
’’فَظَہَرَ أَنَّہٗ لَا یُوْجَدُ مُعَارِضٌ لِأَحَادِیْثِ تَجْوِیْزِ القراءة خَلْفَ الْإِمَامِ مَرْفُوْعاً‘‘
’’بات واضح ہے کہ قراء ۃ خلف الامام والی صحیح احادیث کے معارض کوئی مرفوع حدیث نہیں ہے۔‘‘
یعنی کسی مرفوع حدیث میں یہ نہیں ہے کہ امام کے پیچھے قراء ت نہ کی جائے۔
اسی صفحہ پر لکھتے ہیں:
’’لَمْ یُرْوَ فِيْ حَدِیْثٍ مَرْفُوْعٍ صَحِیْحٍ النَّہْيُ عَنْ قِرَائَۃِ الْفَاتِحَۃِ خَلْفَ الْإِمَامِ،وَکُلُّ مَا ذَکَرُوْہُ اِمَّا لَا أَصْلَ لَہٗ وَ اِمَّا لَا یَصِحُّ‘‘
’’امام کے پیچھے قراء تِ فاتحہ سے روکنے یا منع کرنے والی کوئی صحیح و مرفوع