کتاب: سورۃ الفاتحہ فضیلت اور مقتدی کےلیے حکم - صفحہ 239
اختلاف کرے،اس شخص کو فاسق یا گمراہ کہنا عناد کا بیج بونا ہے اور ضروری ہے کہ جو فریق ایک جانب کو حق سمجھتا ہے،وہ دوسرے فریق کو معذور سمجھتے اور اس پر زبانِ لعن و طعن دراز کیے بغیر اپنے نظریے کو منصفانہ رنگ میں بدلائل بیان کرکے کتمان کے گناہ سے بچے۔‘‘[1] پھر آگے(ص:۳۳) موصوف فرماتے ہیں: ’’ہمارا تو یہ مسلک ہے کہ فاتحہ خلف الامام کا مسئلہ فروعی اختلاف ہونے کی بنا پر اجتہادی ہے،پس جو شخص حتی الامکان تحقیق کرے اور یہ سمجھے کہ فاتحہ فرض نہیں،خواہ نماز جہری ہو یا سری،وہ اپنی تحقیق پر عمل کر لے تو اس کی نماز باطل نہیں ہوتی۔‘‘[2] یہ ایک اصولی بات ہے کہ جس سے قائلینِ وجوب(فریقِ اول) کی دقتِ نظری،وسعت ظرفی اور عملی اختلافات کے سلسلے میں ان کے نظریہ کو سمجھنے میں کافی مدد مل سکتی ہے اور جیسا کہ فاضل گوندلوی نے حتی الامکان اور بساط کے مطابق تحقیق و جستجو کے بعد اپنی تحقیق کے نتیجے پر عمل کرنے والوں کو کہا ہے کہ اس کی نماز باطل نہیں تو اب اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اپنے آبا و اجداد کے طریقۂ نماز کے بارے میں اپنے والدین سے پوچھا اور انھیں دیکھا کہ وہ اس طرح نماز پڑھتے تھے اور ہیں،لہٰذا یہی طریقہ صحیح ہے،یہ کوئی تحقیق نہیں ہے۔تحقیق وہ ہے جو قرآن و سنت کے دلائلِ صحیحہ پر مبنی ہو اور صحیحہ کی شرط بھی ضروری ہے،کیوں کہ بعض لوگ اپنے نظریے کے حق میں دلائل کا ڈھیر لگا دیتے ہیں،لیکن وہ یا تو سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہوتے یا پھر موضوعِ بحث میں صریح نہیں
[1] خیر الکلام(ص:۱۴،۱۵)،توضیح(۱؍۴۵) [2] خیر الکلام بحوالہ سابقہ