کتاب: سورۃ الفاتحہ فضیلت اور مقتدی کےلیے حکم - صفحہ 238
بڑھکانے اور باہم نفرتوں کے بیج بونے میں لگے رہتے ہیں۔وہ بعض جملوں کو غلط مفہوم پر محمول کرتے ہوئے ان سے خود ہی غلط نتائج کشید کرتے ہیں اور پھر انھیں بنیاد بنا کر بلا وجہ کی الزام تراشیاں اور فتنے پیدا کرتے ہیں،مثلاً:قائلینِ وجوبِ فاتحہ کے بارے میں کوئی جوشیلا مولوی کہہ دے کہ ان کے نزدیک جب ہر نماز کے لیے قراء تِ فاتحہ فرض یا واجب ہے،وہ چاہے امام ہو یا مقتدی یا چاہے وہ اکیلا ہو،تو قائلینِ وجوب کے نزدیک اس کے منکر اور تارک پر کیا فتویٰ چسپاں ہو گا؟ اب تارکِ قراء ت مسلمان رہے گا یا نہیں،کیوں کہ اصول کے لحاظ سے تو فرض کا منکر مسلمان نہیں ہونا چاہیے۔[1] جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ایسے اختلافی اور تحقیقی مسائل میں فریقین کو ہی وسعتِ ظرفی سے کام لیتے ہوئے داد ِ تحقیق دینی چاہیے،نہ قائلین،مانعین کو کفر و فسق تک لے جائیں اور نہ ہی مانعین،قائلین پر شمشیرِ تکفیر و تفسیق چلائیں اور نہ ہی ایک دوسرے کی عبارات کو غلط رنگ میں پیش کرکے ان سے ایسے نتائج اخذ کریں،جن سے منافرت پیدا ہوتی ہو۔ فریقِ اول کے نظریہ یعنی وجوبِ قراء تِ فاتحہ خلف الامام سے ایسے نتائج اخذ کرنا ممکن تھا،بلکہ اخذ کیے گئے،جب کہ اس مسئلے کے بارے میں فریقِ اول کے ایک فاضل حضرت حافظ محمد محدث گوندلوی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب خیر الکلام میں بعض وضاحتی امور ذکر کر کیے ہیں،جن کا یہاں تذکرہ ان شاء اللہ مفید رہے گا،چنانچہ انھوں نے’’خیر الکلام‘‘(ص:۱۴،۱۵) میں جو کچھ لکھا ہے،اس کا ماحصل یہ ہے: ’’جو شخص بساط کے مطابق تحقیق و تدقیق اور بحث و جستجو کے بعد دیانت دارانہ
[1] کما قال صاحب أحسن الکلام(۱؍۳۵) حاشیہ۔