کتاب: سنت کی روشنی اور بدعت کے اندھیرے کتاب وسنت کے آئینہ میں - صفحہ 199
اصحاب ہیں ، تو کہا جائے گا : آپ نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں ایجاد کر لی تھیں ۔ نیز اسماء بنت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’إنيعلی الحوض حتی أنظر من یرد علي منکم، وسیؤخذ ناسٌ من دوني فأقول: یا رب مني ومن أمتي، فیقال: ھل شعرت ما عملوا بعدک، واللّٰه مابرحوا یرجعون علی أعقابھم‘‘،فکان ابن أبي ملیکۃ یقول:’’اللھم إنا نعوذبک أن نرجع علی أعقابنا أو أن نفتن في دیننا‘‘[1] میں حوض کوثر پر ہوں گا تاکہ تم میں جو لوگ میرے پاس آتے ہیں انہیں دیکھوں ، اور کچھ لوگوں کو مجھ سے ہٹا دیا جائے گا، تو میں کہوں گا: اے میرے رب ! یہ مجھ سے اور میری امت کے لوگ ہیں ، تو کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کیاعمل کیا؟
[1] متفق علیہ: البخاری،کتاب الرقائق، باب في حوض النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، ۷/۲۶۶، حدیث نمبر (۶۵۹۳)، ومسلم، کتاب الفضائل، باب إثبات حوض نبینا صلی اللہ علیہ وسلم وصفاتہ، ۴/۱۷۹۴، حدیث نمبر (۲۲۹۳)۔