کتاب: سنت کی روشنی اور بدعت کے اندھیرے کتاب وسنت کے آئینہ میں - صفحہ 191
اللہ کی قسم بدعات اس طرح عام ہو جائیں گی کہ اگر ان میں سے کوئی چیز چھوڑ دی جائے گی ، تو لوگ کہیں گے کہ سنت چھوڑ دی گئی۔ (۷) بدعتی کی شہادت (گواہی) اور روایت کی عدم قبولیت: تمام اہل علم ، محدثین،فقہاء اور اصحاب اصول کا اس بات پر اجماع ہے کہ کفریہ بدعت والے بدعتی کی روایت قبول نہ کی جائے گی، البتہ جس کی بدعت کفریہ نہ ہو اس کی روایت قبول کرنے کے سلسلہ میں اہل علم کا اختلاف ہے، امام نووی رحمہ اللہ نے اس بات کو راجح قرار دیا ہے کہ اگر وہ اپنی بدعت کی طرف لوگوں کو دعوت نہ دیتا ہو تو اس کی روایت قبول کی جائے گی، اور اگر اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا ہو تو قبول نہ کی جائے گی ۔[1] (۸) بدعتی سب سے زیادہ فتنوں سے دوچار ہوتے ہیں : جب کہ اللہ تعالیٰ نے فتنوں سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے، ارشاد ربانی ہے: ﴿ وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَّا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنكُمْ خَاصَّةً ۖ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ﴾[2]
[1] دیکھئے: صحیح مسلم بشرح نووی، ۱/۱۷۶۔ [2] سورۃ الأنفال:۲۵۔